30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اما ا بن النجار فاخرجہ من طریق محمد بن مھدی المروزی انبانا ابوبشر بن سیار الرقی حدثنا العباس بن کثیرالرقی عن یزید بن ابی حبیب قال قال لی مھدی بن میمون دخلت علی سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم وھویعتم فقال لی یا اباایوب الا احدثك بحدیث تحبہ وتحملہ وترویہ فذکرمثلہ وقال لا یزالون یصلون علی اصحاب العمائم حتی تغیب الشمس [1] قال الحافظ فی اللسان ھذا حدیث منکر بل موضوع ولم ارللعباس بن کثیر ذکرا فی الغرباء لابن یونس ولا فی ذیلہ لابن الطحان واما ابو بشر بن سیار فلم یذکرہ ابواحمد الحاکم فی الکنی وماعرفت محمد بن مھدی المروزی ولا مھدی بن میمون الراوی لھذاالحدیث من سالم ولیس ھوالبصری المخرج فی الصحیحین وذاك یکنی ابایحیی ولا ادری ممن الافۃ [2] اھ اقول: رحم اﷲ الحافظ من این یاتیہ الوضع ولیس فیہ مایحیلہ عقل ولا |
ابن نجار نے اسکی تخریج اس سند سے کی ہے کہ محمد بن مہدی مروزی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابوبشر بن سیاررقی نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عباس بن کثیر رقی نے یزید بن ابی حبیب کے حوالے سے حدیث بیان کی کہا مجھے مہدی بن میمون نے بتایا کہ ایك دفعہ میں سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے پاس گیا تو وہ عمامہ باندھ رہے تھے انھوں نے مجھے فرمایا کہ اے ابو ایوب !میں تجھے ایك حدیث نہ بیان کروں جسے تو محبوب رکھے حاصل کرنے کے بعد اسے بیان کرے ، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور فرمایا کہ فرشتے عمامہ باندھنے والوں پر غروبِ آفتاب تك صلوٰۃ بھیجتے ہیں حافظ نے لسان میں فرمایا یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے اور میں نے عباس بن کثیر کا ذکر ابن یونس کی غرباء میں اور اس کے حاشیہ لا بن طحان میں نہیں پایا اور ابوبشر بن سیار کا تذکرہ ابواحمد حاکم نے الکنی میں نہیں کیا اور نہ ہی میں محمد بن مہدی مروزی اور اس حدیث کے راوی مہدی بن میمون کو جانتا ہُوں اور یہ وہ بصری بھی نہیں جو مسلم وبخاری کے راوی ہیں ان کی کنیت ابو یحیی ہے اور نہ میں اس کی آفت سے آگاہ ہوں۔(ت) اقول: حافظ پر اﷲ تعالٰی رحم کرے اس روایت میں وضع کو کہاں سے لائے ہیں؟ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع