30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسبوق اس کے محاذات میں اگر چہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو تو مشرق یعنی جانبِ مقتدیان منہ نہ کرے ،بہرحال پھر نامطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رُو بیٹھا رہا تومبتلائے کراہت و تارك سنّت ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۴۳۹: قازاروہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمدصادق علی صاحب رمضان شریف۱۳۳۰ھ
اکثر دیہات میں نماز پڑھ کر جب اُٹھتے ہیں کونا مصلّی کا اُلٹ دیتے ہیں اس کا شرعًا ثبوت ہے یا نہیں؟
الجواب:
ابن عساکر نے تاریخ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الشیاطین یستمتعون بثیابکم فاذانزع احدکم ثوبہ فلیطوہ حتی ترجع الیھا انفاسھا فان الشیطان لایلبس ثوبا مطویا[1]۔ |
شیطان تمہارے کپڑے اپنے استعمال میں لاتے ہیں تو کپڑا اتار کر تہہ کر دیا کرو کہ اس کا دام راست ہوجائے کہ شیطان تَہہ کئے کپڑے نہیں پہنتا۔ |
معجم اوسط طبرانی کے لفظ یہ ہیں:
|
أطووا ثیابکم ترجع الیھا ارواحھا،فان الشیطان اذا وجد الثوب مطویا لم یلبسہ ، وان وجدہ منشورا لبسہ [2]۔ |
کپڑے لپیٹ دیا کرو کہ ان کی جان میں جان آجائے اس لئے کہ شیطان جس کپڑے کو لپٹا ہوا دیکھتا ہے اسے نہیں پہنتا اور جسے پھیلا ہوا پاتا ہے اسے پہنتا ہے۔(ت) |
ابن ابی الدنیا نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کی:
|
قال ما من فراش یکون مفروشا لاینام علیہ احد الا نام علیہ الشیطان[3]۔ |
فرمایا جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔(ت) |
ان احادیث سے اُس کی اصل نکل سکتی ہے اور پورا لپیٹ دینا بہتر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع