30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی الجبھۃ والیدین والرکبتین واطراف القدمین[1]۔ |
کروں پیشانی اور دونوں ہاتھ اور دونوں زانو اور دونوں پاؤں کے نیچے۔ |
ان میں دونوں سرین ملانا زیادت فی الشرع ہے اور زیادت فی الشرع حرام،
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھورد [2] اخرجہ البخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ عنھا۔ |
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہمارے اس امر(شرع) میں بدعت ایجاد کی جو شریعت سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔بخاری و مسلم و ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے ۔(ت) |
اور زیادت بھی اس ادعا سے کہ فرض ہے اور اسکا ترك مفسد نماز اس کے ثبوت کو تو احادیث احادہ بھی ناکافی ہوتیں کما تقرر فی مقرہ وعلم من صنیع صحابنا رضی اﷲ تعالٰی عنھم فی سورۃ الفاتحہ و غیرھا (جیسا کہ اپنے مقام پر اسکی تقریرہوچکی ہے اور سورۃ فاتحہ وغیرہا سے متعلق ہمارے اصحاب احناف رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے طریقہ سے معلوم ہوچکا ہے ۔ت) نہ کہ وہ کہ جس کا پتا نہ حدیث میں نہ فقہ میں جس پر دلیل درکنار شبہہ تك نہیں ایسی جگہ غیر فرض کو فرض بتانا بہت سخت حکم رکھتا ہے فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾ [3](کیاتم باز نہیں آؤ گے۔ت) اول تو الیتین کی بجائے قدمین ہونے پر کیا دلیل اور بفرض غلط ہو بھی تو قعود میں کہ صلاۃ القاعد میں بجائے قیام ہے اور مفہوم قعود میں الصاق الیتین داخل کما فی بدائع ملك العلماء (جیسا کہ بدائع ملك العلماء میں ہے۔ت) سجود کہ نہ قیام ہے نہ قعود نہ الصاق مذکور اس سے مفہوم نہ اُس میں مقصود بلکہ سجدہ رجال میں احادیث متوترہ قولیہ و فعلیہ و نصوص متظافرہ متون و شروح و فتاوٰی فقہیہ میں صراحۃً اس کی نفی موجود اس میں الصاق مذکور سے نفی کراہت و مخالفت سنّت بھی قطعًا مردود نہ کہ ادعائے فرضیت کہ اشنع باطل و اخنع مطرود ونسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولا حول ولا قوہ الّا باﷲ الغفور الودود واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۳۱: از مولوی عبداﷲ صاحب مدرس مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ
رکوع کرتے وقت نظر کس جگہ رکھنا چاہئے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع