30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳) تراویح بیس رکعت سنت مؤکدہ ہیں سنّت مؤکدہ کا ترك بد ہے۔نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
تم پر میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنت لازم ہے اسے اپنی داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لو:(ت) |
علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین عضوا علیھا بالنواجذ [1]۔ |
دوسری حدیث میں ہے:
|
انہ سیحدث بعدی اشیاء وان من احبھا الی لما احدث عمر [2]۔ واﷲ تعالی اعلم ۔ |
میرے بعد بہت سی اشیاء ایجاد ہوں گی ان میں سے مجھے وہ سب سے زیادہ پسند ہیں جو عمر ایجاد کریں گے۔(ت) |
(۴) ایك رکعت وتر خواہ نفل باطل محض ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا آخری فعل تین رکعت وتر ہے:
|
وانما یؤخذ بالاٰخر فہو الاخر من فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
آپ کے آخری عمر کے اعمال پر عمل کیا جاتا ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا آخری عمل یہی ہے (ت) |
اتنا یاد رہے کہ یہاں ان مسائل میں مخالفت کرنے والے غیر مقلدین وہابیہ ہیں جن پر بوجوہ کثیرہ ان کے ضالہ کے سبب کفر لازم ، جس کی قدرے تفصیل ہمارے رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ میں ہے وہ کہ مسلمان ہی نہیں اُٹھیں ایسے فروعی مسائل اسلامی میں نیا دخل دینے کا کیا حق ، اُن سے تو اصول پر گرفت کی جائے گی کہ مقتدی فاتحہ پڑھے نہ پڑھے آمین جہر سے کہے یا آہستہ، تراویح آٹھ رکعت ہوں یا بیس ، وتر ایك ہو یا تین یہ تو سب اس پر موقوف ہیں کہ نماز بھی صحیح ہو جس کا اسلا م صحیح نہیں اس کی نمازکیسے صحیح ہو سکتی ہے وہ ان مسائل میں اِس طرف عمل کرے تو اُس کی نماز باطل ، اُس طرف عمل کرے تو باطل ، پھر لایعنی فضول زق زق سے کیا فائدہ ! اور مسلمان کو ہوشیار رہنا چا ہئے کہ نہ ان سے ملناجائز ، نہ اُن کی بات سننی جائز ، نہ اس کے پاس بیٹھنا جائز ۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
[1] سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب پریس لاہور ۲/ ۲۷۹
[2] کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال، فضائل فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی ، مکتبہ التراث الاسلامی مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۲/ ۵۸۷
نوٹ:حدیث کے الفاظ کنزالعمال میں
یوں منقول ہیں:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم
قال سیحدث بعدی اشیاء فاحبھا الی ان تلزمو اما احدث عمر رضی اﷲ عنہ۔ نذیر احمد سعیدی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع