30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صفۃ الصلاۃمیں فرمایا:
|
کما یسن الصاق الکعبین فی الرکوع فکذا فی السجود ایضا[1]۔ |
جیسا کہ رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنت ہے اسی طرح سجدہ میں بھی سنت ہے۔(ت) |
ہاں دربارہ سجودیہ صرف انھیں کا بیان ہے اگر چہ علامہ طحطاوی نے اُن کا اتباع کیا اورشرح علائی کا حوالہ سہوًا واقع ہوا اس میں صرف دربارہ رکوع مذکور ہے اور علامہ شامی نے جو اس کی توجیہ فرمائی محلِ کلام ہے۔طحطاوی علی الدر میں ہے:
|
قولہ یسن ان یلصق الخ ای فی الرکوع والسجود ابوالسعود [2]۔ |
اس کا قول"یسن ان یلصق"الخ (الصاق سنّت ہے یعنی رکوع اور سجدہ میں،ابو السعود۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال السیّد ابوالسعود وکذا فی السجود(ایضا) وسبق فی السنن ایضا اھ والذی سبق ھوقولہ الصاق کعبیہ فی السجود سنۃ، در اھ ولا یخفی ان ھذا سبق نظرفان شارحنا لم یذکرذلك لا فی الدرالمختار ولافی الدرالمنتقی ولم ارہ لغیرہ ایضا فافھم ، نعم ربمایفھم ذلك من انہ اذکان السنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین ولم یذکروا تفریجھما بعدہ فالاصل بقاء وھما ملصقین فی حالۃ السجود ایضا تأمل [3] اھ مافی الشامی ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ (اقول) تاملنا فلم نجدہ وافیًا فان الحرکۃ الانتقالیۃ |
سیّد ابو السعود کہتے ہیں اسی طرح سجود میں بھی، اور بیانِ سنن میں بھی گزر چکا ہے اور گزرے ہوئے قول کے الفاظ یہ ہیں کہ سجدہ میں الصاق کعبین سنّت ہے دراھ واضح رہے کہ ان کے اس قول (جو پیچھے گزر چکا ہے ) میں نظر کی خطا ہے کیونکہ ہمارے شارح نے اسے نہ درمختار میں ذکر کیا اور نہ ہی درمنتقی میں ،اور میں نے کسی غیر کی عبارت میں بھی یہ نہیں دیکھا اسے سمجھو ، ہاں اکثر اوقات اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جب رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنّت ہے اور اس کے بعد ان کا کشادہ رکھنا انہوں نے بیان نہیں کیا تو اصل یہی ہے کہ حالت سجود میں بھی ٹخنے متصل ہی رہیں ،غور سے سمجھ لو اھ شامی کا حاشیہ ختم ۔اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے بھی شامی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع