30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ما یتکرر فی کل رکعۃ کالسجود وبین مابعدہ واجب حتی لوترك سجدۃ من رکعۃ ثم تذکرھا فیما بعدھا من قیام او رکوع اوسجود فانہ یقضیھا ولایقضی ما فعلہ قبل قضائھا مما ھو بعد رکعتھا من قیام او رکوع اوسجود بل یلزمہ سجود السھو فحسب لکن اختلف فی لزوم قضاء ما تذکر فقضاھا فیہ کما لو تذکروھو راکع او ساجد انہ لم یسجد فی الرکعۃ التی قبلھا فانہ یسجدھاو ھل یعید الرکوع اوالسجود المتذکر فیہ ففی الھدایۃ انہ لا یحب اعادتہ بل تستحسب معللابان الترتیب لیس بفرض بین ما یتکرر من الافعال وفی فتاوٰی قاضی خان انہ یعیدہ ولو لم یعدہ فسدت صلاتہ معللا بانہ ارتفض بالعود الی ماقبلہ من الارکان لانہ قبل الرفع منہ یقبل الرفض بخلاف مالو تذکر السجدۃ بعد ما رفع من الرکوع لانہ بعد ماتم بالرفع لا یقبل الرفض [1]۔ |
اسے بجالائے پھر قعدہ لوٹائے اور سجدہ سہو کرے(اس طرح نماز ہو جائے گی) اور پوری رکعت میں جو متکرر افعال ہیں مثلًا سجود میں، اور ان کے بعد والے افعال میں ترتیب لازم ہے حتٰی کہ اگر کسی نے ایك رکعت کا سجدہ ترك کردیا اور بعد میں قیام ، رکوع یا سجدہ میں یاد آیا تو سجدہ کو قضا کرے اسکی قضا سے پہلے اس سجدہ والی رکعت کے بعد جو کچھ قیام ، رکوع یا سجدہ کرلیا ہے اس کا اعادہ نہ کرے بلکہ آخر میں صر ف سجدہ سہو کرے کافی ہے لیکن چُھوٹا ہوا سجدہ یاد آیا تو وہاں اس نے وہ سجدہ قضا کرلیا تو کیا یہ رکوع یا سجدہ قضا کرنا پڑے گا یا نہیں اس میں اختلاف ہے، توہدایہ میں ہے کہ اس رکن کا اعادہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے انہوں نے وجہ یہ بیان کی کہ تکرار والے افعال میں ترتیب فرض نہیں ہے۔اورفتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ اس رکن کا اعادہ ضروری ہے ، اگر اعادہ نہ کیا نماز فاسد ہوجائے گی ۔ انھوں نے وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس رکن کو چھوڑ کر ماقبل کی طرف لوٹنے سے وہ رکن (درمیان میں چُھوٹ گیا اور مکمل نہ ہوا) کیونکہ رکن مکمل کرکے اُٹھنے سے پہلے وہ مکمل نہیں ہوتا بخلاف جبکہ رکن کو مکمل کرکے اُٹھنے کے بعد چھُوٹا ہوا سجدہ یا د آئے اور قضا کرے تو رکوع کا اعادہ ضروری نہیں کیونکہ رکوع سے اُٹھنے پر رکوع مکمل ہوگیا تو اب رکوع کے چھوٹنے کا احتمال نہ رہا۔(ت) |
اب ان عبارات میں اُس فائدے کے علاوہ دو فائدہ زائدہ ہیں ایك سجدہ کو فرض مکرر کہنا،معلوم ہوا کہ دونوں سجدے فرض ہیں ، دوم تعلیل کہ جب پہلی رکعت میں ایك سجدہ بھول گیا اور مثلًا دوسری کے رکوع میں یاد آیا کہ معًا اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع