30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سجدہ ثانیہ مراد ہے حالانکہ یہ واضح الفساد ہے سجدہ ثانیہ کو تو فرما دیا یقضیھا (اس سجدہ ثانیہ کی قضا کرے۔ت)آگے فرمایا ویکون القیام معتبرا(اس کا قیام معتبر ہے۔ت) جب سجدہ ثانیہ مراد ہو حالانکہ اس کی تو قضا کرچکا پھر سجدہ متروك کب ہوا موخر ہوا، ترك و تاخیر میں جو فرق ہے ہر عامی پر روشن ہے ترك فرض مبطل صلاۃ ہے اور تاخیر موجب سجود سہو ،بلکہ واجب سے مراد ترتیب ہے کہ بوجہ تاخیر سجدہ ثانیہ و تقدیم قیام ترتیب متروك ہوئی یہ خود نفس کلام سے واضح ہے کہ یہاں گفتگو واجب ترتیب میں ہے ابتداء میں بشمار واجبات فرمایا تھا"ورعایۃ الترتیب فیما تکرر"کلام مذکور کے بعد فرمایا:
|
اقول قولہ"فیما تکرر"لیس قیدایوجب نفی الحکم عماعداہ فان مراعاۃ الترتیب فی الارکان التی لایتکرر فی رکعۃ واحدۃ کالرکوع و نحوہ واجبۃ ایضا[1]۔ |
میں کہتا ہوں اس کا قول فیما تکرر(وہ افعال جن میں تکرار ہے) یہ ایسی قید نہیں جو دوسروں کی نفی کرے کیونکہ رعایت ترتیب ان افعال میں بھی واجب ہے جو ایك رکعت میں متعدد نہیں ہوتے مثلًا رکوع وغیرہ(ت) |
اخیر میں اس تمام کلام پر تفریع فرمائی فعلم ان رعایۃ الترتیب واجبۃ مطلقا [2](پس واضح ہوگیا کہ رعایت ترتیب مطلقًا واجب ہے ۔ت)دیگر علمائے کرام نے مراد کو خوب واضح کردیا کہ ترتیب ہی کو واجب کہا گیا نہ کہ سجدہ ثانیہ کو علامہ اکمل الدین بابرتی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
|
(مراعاۃ الترتیب فیما شرع مکررا) یعنی فی الرکعۃ الواحدۃ کالسجدۃ الثانیۃ من الرکعۃ الاولٰی فان ترکھا ساھیا وقام واتم صلاتہ ثم تذکرفان علیہ ان یسجد السجدۃ المتروکۃ ویسجد للسھو لترك الترتیب[3]۔ |
(متکررافعال میں رعایت ترتیب مطلقًا واجب ہے) یعنی رکعت واحدہ میں مثلًا پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ ، جس نے اسے بھول کر چھوڑ دیا اور دوسری رکعت کی طرف کھڑا ہوگیااور نماز پوری کرنے کے بعد متروکہ سجدہ یاد آیا تو اس پر لازم ہے کہ پہلے متروکہ سجدہ کرے پھر سجدہ سہو کرے کیونکہ ترتیب باقی نہ رہی۔(ت) |
حلیہ میں ہے :
|
لو ترك السجدہ الثانیۃ من الرکعۃ الاولٰی |
اگر بھول کر پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ چھوڑ کر دوسری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع