30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایضًا یہاں تصریح ہے کہ فرضیت درکنار دونوں سجدے بالاجماع رکنِ نماز ہیں۔
نص ثالث:مبسوط امام شیخ الاسلام پھر حلیۃ میں دونوں سجدے فرض ہونے کی حکمت بیان فرمائی:
|
ھذا ماروی فی الاخباران اﷲ تعالٰی لما اخذ المیثاق من ذریۃ اٰدم علیہ الصلاۃ والسلام حیث قال عزوجل واذ اخذ ربك من بنی اٰدم من ظھورھم ذریتھم الاٰیۃ امرھم بالسجود تصدیقا لما قال فسجد المسلمون کلھم وبقی الکفار فلما رفع المسلمون رؤسھم ورأو الکفار لم یسجدوا فسجدوا ثانیا شکرالما وفقھم اﷲ تعالٰی علی السجود الاول فصار المفروض سجدتین لھذا والرکوع مرۃ [1]۔ |
یہ اس بنا پر ہے جو روایات میں ہے کہ اﷲ تعالٰی نے جب اولادِآدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عہد لیا جس کا ذکر اﷲ نے اس آیت میں کیا ہے :اور یاد کرو اس وقت کو جب اے حبیب! آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں ان کی اولاد سے عہد لیا الآیۃ ، تو انھیں بطور تصدیق سجدے کا حکم دیا تو اﷲ کے حکم ہر تمام مسلمان سجدہ ریز ہوگئے لیکن کافر کھڑے محروم رہ گئے جب مسلمانوں نے سجدے سے سر اُٹھایا اور دیکھا کہ کفار نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگئے کہ اﷲ تعالٰی نے انھیں سجدہ اوّل کی توفیق دی ، لہذا نماز میں دو۲ سجدے فرض ولازم ہوگئے اور رکوع ایك ہی رہا۔(ت) |
نص رابع:مراقی الفلاح میں تھا:یفترض السجود[2] (سجدہ فرض کیا گیا ہے۔ت)علامہ طحطاوی نے حاشیہ میں فرمایا:المراد منہ الجنس ای السجدتان [3]۔(مراد اس سے جنسِ سجدہ یعنی دو سجدے ہیں۔ت)
نص خامس: دررالحکام شرح غررالاحکام للعلامہ مولی خسرو میں ہے:
|
فان قیل فرضیۃ الرکوع والسجود ثبتت بقولہ تعالٰی ارْکَعُوۡا وَاسْجُدُوۡا والامرلایوجب التکرار |
اگر یہ سوال ہو کہ رکوع و سجود کی فرضیت اﷲ تعالٰی کے اس فرمان سے ثابت ہے ارکعو اواسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع