30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
قومہ و جلسہ کے اذکارِ طویلہ نوافل پر محمول ہیں و لہذاہمارے ائمہ فرائض میں انھیں مسنون نہیں جانتے اور شك نہیں کہ فرائض میں تطویل فاحش خلاف سنّت ہے اور امام کے لئے توقطعًا ممنوع جبکہ مقتدیوں میں کسی پر بھی گراں ہو، ہاں منفرد بعض کلماتِ ماثورہ بڑھائے تو حرج بھی نہیں ، یونہی امام بھی جبکہ مقتدی محصور اور سب راضی ہوں ، رہا مقتدی وہ آپ ہی اتباعِ امام کرے گا ، اگر امام کہے، کہے ورنہ نہیں۔
|
وفی الدرالمختار یجلس بین السجدتین مطمئنا ولیس بینھما ذکر مسنون و کذالیس بعد رفعہ من الرکوع دعاء وکذا لایاتی فی رکوعہ وسجود بغیر التسبیح علی المذھب وماورد محمول علی النفل [1]۔ |
درمختار میں ہے نمازی دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں اطمینان سے بیٹھے ، دو سجدوں کے درمیان کوئی ذکر سنت نہیں۔اسی طرح رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قومہ میں کوئی دعا مسنو ن نہیں ۔ اسی طرح رکوع وسجود میں تسبیح کے علاوہ کوئی دعا نہ کرے ، صحیح مذہب یہی ہے اور جو روایات میں آیا ہے وہ نوافل پر محمول ہے (ت) |
محرر مذہب سیدنا اما م محمد رحمہ اﷲ تعالٰی جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
|
قال ابویوسف سالت ابا حنیفۃ عن الرجل یرفع راسہ من الرکوع فی الفریضۃ ویقول اللھم اغفرلی قال یقول ربنا لك الحمد و یسکت (کذلک) بین السجدتین یسکت [2]۔ |
امام ابویوسف بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے اس شخص کے بارے میں پُوچھا جو فرائض میں رکوع کے بعد سر اُٹھانے کے بعد یہ کہتا ہے اللھم اغفرلی (اے اﷲ مجھے معاف فرما) ۔آپ نے فرمایا :وہ صرف ربنا لك الحمد (اے رب ہمارے ! تیرے لئے حمد ہے)کہے پھر خاموش ہوجائے اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی خاموش رہے (ت) |
حلیہ میں زیر قول متن ولا یزید علی ھذا (اس پر اضافہ نہ کرے ۔ت) فرمایا۔
|
ان ارادالزیادۃ ماورد فی السنۃ فینبغی ان یکون ھذا فی حق الا مامۃ اذاخاف التثقیل |
اگر زیادتی سے مراد اذکار ہیں جو سنت میں وارد ہیں تو یہ حقِ امامت کے بارے میں ہوگا جبکہ مقتدی بوجھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع