30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتمام تفصیلہ و تحقیقہ فی ردالمحتار۔ |
کثیر مرتبہ کرے جب تك جگہ تبدیل نہ ہو الخ اور اس مسئلہ کی تمام تفصیل و تحقیق ردالمحتار میں ہے (ت) |
اور اگر کثیرہ سے کثیرہ فقہیہ مراد نہ لیجئے تو وہاں ہر گز کثیرہ لغویہ بھی نہیں اور ہوتی بھی تو نفیِ سنیت پر اس سے استدلال از قبیلِ مصادر ہوگا کہ تحصیلِ سنّت کے لئے حرکت قلیلہ قطعًا مطلوب ، اگرچہ بالاضافت لغۃً کثیرہ ہو، تو اس فعل پر بوجوہ لزوم حرکت اعتراض اس پر موقوف کہ سنّیت مصرحہ فقہًا باطل ہو کر فعل عبث و خارج عن افعال الصلٰوۃ قرار پائے اور حقیقتِ امر پر نظر کیجئے تو نہ یہاں اقدام کو ان کے مواضع سے تحریك کی ضرورت ہوتی ہے نہ انگلیوں کے استقبال میں فرق آتا ہے نہ فرجہ چار انگشت ہاتھ سے جاتا ہے یہ تو ہرگز نہ مسنون نہ مطلوب کہ پاؤں اپنی وضع خلق کے خلاف رکھے جائیں اور ان کی سطح طولًا ہر گز ہموار نہیں تو پنجوں سے ایڑیوں تك ہر جگہ چار انگشت کا فرجہ ہوناغیر متصور بلکہ قطعًا مقصود یہ ہے کہ صدور اقدام میں اتنا فرجہ رکھے اور پاؤں کو اپنے حال فطری پر چھوڑے نہ یہ کہ ایڑیوں میں بھی اس قدر فرجہ حاصل کرنے کے لئے انہیں دہنے بائیں ہٹائے ، پاؤں کی تخلیق اس طرح واقع ہوئی ہے کہ صدور یعنی پنجوں میں فصل زائد اور اعقاب یعنی ایڑیوں میں کم ہے ، جتنا فصل پنجوں میں رکھئے اور پاؤں وضع فطری پر رہنے دیجئے تو ایڑیوں میں یقینا اس سے فصل کم ہوگا اور کعبین میں بلند و برآمدہ میں اور بھی کم ہوگا تو دونوں تلوے بجائے خود جمے رہنے کے ساتھ ایك خفیف امالہ کعبین میں ٹخنے بلا تکلف مل جائیں گے جس پر کم از کم ہر روز بتیس ۳۲ با رکا تجربہ شاہد ہے کہ آخر تصریحات مذکورہ علمادیکھئے کہ الصاق کعبین اور ان کے ساتھ ہی استقبال اصابع کی سنیت لکھ رہے ہیں ان میں تنافی ہوتی تو کیا متنافیین کو معًا مسنون بتاتے، ہاں جسے فربہی مفرط وغیرہ کوئی عذر ایسا ہو کہ سرے سے پنجوں ہی میں چار انگل فصل نہ رکھ سکے بلکہ معتدبہ زیادت پر مجبورہُوا مثلًا بالشت بھر کا فاصلہ تو وہ بیشك کعبین نہ ملاسکے گا جب تك پنجوں کو دہنے بائیں اور ایڑیوں کو اندر کی جانب حرکت نہ دے اور اب بے شك تحریك بھی پائی جائے گی اور استقبالِ اصابع بھی نہ رہے گا غالبًا یہی صورۃ خاصہ اس وقت صاحب مفتاح کے خیال مبارك میں ہوگی ، ایسا شخص نہ اس سنت قیام یعنی فرجہ چار انگشت پر قادر نہ ہم اس کے لئے الصاق کعبین مسنون کہیں ۔علّامہ طحطاوی کا ارشاد سن چکے کہ ھذا ان تیسر (یہ آسانی کے وقت ہے ۔ت) علامہ شامی کا افادہ گزرا کہ ای حیث لا عذر (یعنی جہاں عذر نہ ہو۔ت) اس قدر کلا م کا جواب تو یہ بتوفیقہٖ تعالی بنگاہ اوّلیں معًا حاۤضر خاطر ہُوا باقی ان کا حاشیہ بحر اگر ملے دیکھنا رہا مگر بعونہٖ تعالٰی امید یہ ہے کہ اس بیان کے بعد کسی اعتراض کی گنجائش نہیں وباﷲ توفیق واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۰۸:ازگونڈھ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ۔ ۱۳ جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ۔ بعض مقلدین وغیر مقلدین عمومًا قومہ و جلسہ میں دیر تك ٹھہرتے ہیں، یہ کیسا ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع