30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زبان عرب میں استعمال"ب"مواضع الصاق حقیقی سے مختص نہیں وہ جس طرح وامسحوا برؤسکم میں اپنی حقیقت پر ہے یونہی"مررت بزید"میں تو الباء للالصاق کا بطریق عموم مجاز معنی قرب پر حمل واجب ،یوں ہی حدیث صحیح نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما:
|
رأیت الرجل منا یلزق کعبہ بکعب صاحبہ١[1]۔ |
میں نے دیکھا کہ ہم سے کوئی شخص اپنے ٹخنے کو دوسرے کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر صف میں کھڑا ہوتا ہے۔(ت) |
وحدیث اصح انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہما:
|
کان احد نایلزق منکبہ بمنکب صاحبہ وقدمہ بقدمہ[2]۔ |
ہم میں سے ہر ایك اپنے کاندھے کو دوسرے کے کاندھے سے اوپر اپنے قدم کو دوسرے کے قدم سے ملاتا تھا۔(ت) |
میں درباہ کعاب و اقدام ارادہ معنی حقیقی پر اقدام نہیں ہوسکتا کہ قیام میں سنّت تقریب قدمین ہے، خود صاحب مفتاح رحمہ الفتاح کو مسلّم کہ فرجہ چہار انگشت مسنون است(چار انگل کا فاصلہ مسنون ہے ۔ت)
اگر چہ اس تجدید کی بھی سند پُوچھئے تو کتاب الاثرمیں امام سے روایت ملے گی یا امام اقطع کا قول ، نہ بالخصوص حدیث صحیح یا ظاہر الروایۃ و متون کی تصریح بہرحال ایسی تفریج کہ زید کا کعب اِدھر عمرو اُدھربکر کے کعب سے ملصق ہو صراحۃً شانِ ادب کے بھی خلاف و شنیع ہے تو قیام کی دلیل کے باعث مجاز پر حمل ہر گز تجوز بے دلیل کے دستاویز نہیں ہو سکتا یہاں مجرد محاذات مراد لینے کا تو کوئی محل نہیں یہ علما اسے خاص سنّت رکوع بتاتے ہیں اور محاذات ہر گز اس سے خاص نہیں ، قیام خواہ سجود میں کب چاہئے کہ ایك آگے یا پیچھے ہو اور امالہ مراد ہونے پر بھی اصلًا کوئی دلیل نہیں، الصاق کو مستلزم حرکت کثیرہ ماننا سخت عجب ہے بالفرض اگر قیام میں تفریج تام مسنون ہوتی جب بھی الصاق میں کثیرہ نہ تھی ۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایك صف کی قدر چلنا بھی حرکتِ قلیلہ ہے نہ کہ صرف قدمین کا ملالینا کثیرہ ہو ھذا عجیب جدا (یہ نہایت ہی عجیب ہے۔ت) درمختار میں ہے :
|
مشی مستقبل القبلۃ ھل تفسد ، ان قدرصف ثم وقف قدر رکن ثم مشی و وقف کذلك و ھکذا لا تفسد وان کثر مالم یختلف المکان الخ [3]۔ |
نمازی اگر قبلہ رُخ چلا تو نماز فاسد ہوگی یا نہیں ، اگر وہ صف کی مقدار چلا پھر رکن کی مقدار کھڑا رہا اور پھر چلا اور رکن کی مقدار کھڑا رہا نماز فاسد نہ ہوگی اگر چہ یہ عمل۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع