دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 6 | فتاوی رضویہ جلد ۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۶

اس کا حوالہ قلم نہیں ہوسکتا ہے واقعی آپ کاطرز ایسے مسائل میں تحقیق کا اوروں سے نرالا ہے اور بہمہ وجوہ سب سے اعلٰی ہے آپ نے پایہ تحقیق مسائلِ نزاعیہ میں مراتبِ عالیہ کو پہنچا دیا ہے جزاکم اﷲ خیرا الجزا۔اس عریضہ کی تسطیر کی بالفعل یہ ضرورت درپیش ہے کہ وقت ِرکوع دُرمختار میں الصاق کعبین کو مسنون دو٢ مقام پر تحریر کیا ہے شامی نے ثبوتِ مسنونیت میں کوئی حدیث تحریر نہیں کی بلکہ کچھ زیادہ تعرض اور لحاظ نہیں فرمایا، صاحبِ مفتاح الصلوٰۃ نے احادیث اور ظاہرالروایۃ میں وارد ہوناتحریر کرکے الصاق کو بمعنی قربو اتصال تصریح کرکے زیادہ تحقیق کا حوالہ اپنے حواشی پر لکھ دیا، دریاف طلب امر صرف امورِ ذیل ہیں:(١) مسنونیت الصاق کعبین فی الرکوع کہاں ثابت ہے، کون حدیث دلیل قول صاحب درمختار ہے اور وہ کہاں تك قابلِ عمل اور اعتماد ہے، صاحبِ مفتاح الصلوٰۃ کا بیان بنسبت اس مسئلہ کے بجمیعہ صحیح ہے یا کیا۔ دیگر متونِ معتمدہ فقہ مذہب حنفی میں اس سنّت رکوع کا بیان کیوں نہیں درج ہوا ہے تساہل بعض فقہا نے کیوں گوارا فرمایا۔ عبارت فتاوٰی درمختار ہر دو مقام سے اور عبارت مفتاح الصلوٰۃبقیہ صفحہ ذیل میں درج ہے، غایۃ الاوطار ترجمہ دُرمختارصفحہ ٢١٩،٢٣٠ سنن نماز و طریق ادائے نماز وتکبیر الرکوع وکذاالرفع منہ بحیث یستوی قائما و التسبیح فیہ ثلاثاوالصاق کعبیہ و ینصب ساقیہ(تکبیر رکوع اور اسی طرح رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا، اس میں تین دفعہ تسبیح پڑھنا، ٹخنوں کا متصل ہونااور پنڈلیوں کو کھڑا کرنا۔(ت)مفتاح الصلوٰۃ صفحہ ٩٤:

مجتبٰی کہ تصنیف امام زاہدی است از مسنونات رکوع الصۤق کعبین باستقلال انگشتاں بسوئے قبلہ مسنون گفتہ است لیکن در حدیث ِصحیح و در کتب ظاہرا لرویۃ ظاہر نمی شود ظاہر مراد امالہ کعب بسوئے کعب دیگر باشد چجانکہ صاحبِ قاموس معنی لصوق گفتہ است زیراکہ اگر الصاق در وقت ِ رکوع کند حرکت کثیر لازم مے آید باآنکہ استقبال انگشتاں نمی ماند وسنت قیام مے رود کہ فر جہ چہار انگشت مسنون است ومؤید امالہ قول نحویین است الباء للالصاقیی یعنی القرب و درحدیث نیز الصاق الکعب بمعنی القرب والمقابلہ واقع است پس

مقابلہ کعب بکعب نیز ارادہ می تواں نمود چنانکہ تحقیق ایں مسئلہ در حواشی بحراالرائق کاتب بتفصیل مذکورہ نمودہ۔ واﷲ اعلم۔ امام زاہدی کی کتابمجتبٰی میں سنن رکوع کی بحث میں ٹخنوں کو متصل کرنا اور پاؤ ں کی انگلیوں کو قبلہ رُخ کرنا سنّت بیان کیا گیا ہے لیکن حدیث صحیح اور کتب ظاہرالرویۃ میں یہ وارد نہیں ہے زیادہ سے زیادہ اتنا ملتا کہ ایك ٹخنے کا دوسر ٹخنے کی طرف میلان ہو،جیسا کہ صاحب قاموس نے اس کا معنٰی لصوق بیان کیاہے ورنہ رکوع میں اتصال کی صورت میں حرکت کثیرہ لازم آئے گی با آنکہ اس کے ساتھ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف نہیں رہے گا، اور سنت قائم نہ ہوگی کہ حالتِ قیام میں دونوں قدموں کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار کافاصلہ سنّت ہے ، یہاں

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن