30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والمجتبی [1]الٰی اٰخرمامر۔ |
اور مجتبٰی اس کی تصریح کی ہے جس کا ذکر ہوچکا ہے (ت) |
علّامہ حسن شرنبلالی غنیۃ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں:
|
المراد نفی سنیۃ الاکاتیان بھا بعد الفاتحہ و ھذاعندھما وقال محمد یسن الاتیان بھافی السریۃ بعد الفاتحہ ایضا للسررۃ واتفقواعلی عدم کرھۃ الاتیان بھا بل ان سمی بین الفاتحہ والسورۃ کان حسنا سواء کانت الصلاۃ جھرۃ جھریۃ او سریۃ٢[2]۔ |
اس سے مراد فاتحہ کے بعد بسم اﷲ پڑھنے کی سنیت کی نفی ہے اور یہ شیخین کے نزدیك ہے۔امام محمد کا قول یہ ہے کہ نماز سرّی میں فاتحہ کے بعد سورت کے لئے بسم اﷲ پڑھنا بھی سنت ہے لیکن اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو اس کے مکروہ نہ ہونے پر سب کا اتفاق ہے، بلکہ فاتحہ اور سورت کے درمیان اگر پڑھ لیتا ہے تو یہ حسن ہے خواہ نماز جہری ہو یا سرّی۔(ت) |
مراقی الفلاح میں ہے:
|
لا کراھۃ فیھا ان فعلھا اتفاقا للسورۃ سواء جھرا وخافت بالسورۃ ٣[3]۔ |
سورت سے پہلے بسم اﷲ پڑھ لینا بالاتفاق مکروہ نہیں خواہ سورت جہرًا پڑھے یا سرًاأ(ت) |
رحمانیہ و برجندی وغیرہما میںمحیط سے ہے:
|
ذکر الفقیہ ابو جعفر عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ اذا قرأھا مع کل سورۃ فحسن [4]وھو قول محمد رحمہ اﷲ تعالٰی،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
فقیہ ابو جعفر امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ہر سورت کےساتھ بسم اﷲ پڑھتا ہے تو یہ حسن ہے اور یہی امام محمد کا قول ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ نمبر ٤٠٧: ازاٹاوہ متصل کچہری منصفیمرسلہ مولوی محمد حبیب علی صاحب علوی٩رمضان المبارك ١٣١٧ھ
حامدًا و مصلیًا مخلص نوززادکم اﷲ مجد کم۔ اسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔اس طرف جو رسائل شریفہ آنجناب مثلحیات الموات و شاح الجید،النہی الحاجر،ازالۃ العاروغیرہا کے مطالعہ سے شرف اندوزی حاصل ہوئی ۔شکریہ
[1] البحرالرائق فضل واذاارادالدخول الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١/٣١٢
[2] غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع احمد کامل الکائنہ در سعادت بیروت ١/٦٩
[3] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی کیفیۃ ترکیب افعال الصلوٰۃ مطبوہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص١٥٤
[4] شرح النقایۃ للبرجندی ،کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نولکشور بالسرور لکھنؤ ، ١/١٠٤
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع