30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بین الفاتحہ والسورۃ المقروئۃ سرا اوجھرا کان حسنا عند ابی حنیفۃ ورجحہ المحقق ابن الھمام وتلمیذہ الحلبی الشبہۃ الاختلاف فی کو نھا اٰیۃ من کل سورۃبحر[1]۔ |
اس سے ملائی جانے والی سورت کے درمیان بسم اﷲ آہستہ یا بلند پڑھنا امام ابو حنیفہ کے نزدیك حسن ہے۔امام ابن الہمام اور ان کے شاگردحلبی نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ بسم اﷲ کے ہر سورت کا جزء ہونے میں اختلاف کا شبہ ہے۔بحر (اس لئے پڑھ لینا ہی بہتر ہے۔ت) |
طحطاوی میں ہے :
|
قولہ ولا تکرہ اتفاقابل لا خلاف فی انہ لو سمی لکان حسنانھر٢[2]۔ |
اس کا قول کہ"بالاتفاق مکروہ نہیں"بلکہ اگر بسم اﷲ پڑھی تو اس کے حسن ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، نہر۔(ت) |
امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں عن الذخیرۃ عن المعلی عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (ذخیرہ سے معلّی سے ابویوسف سے امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ست) روایت فرمایا:
|
انہ اذاقرأھا مع کل سورۃ فحسن[3]۔ |
اگر نمازی ہر سورت کے ساتھ بسم اﷲپڑھتا ہے تو یہ حسن ہے۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
لاتسن التسمیۃ بین الفاتحہ والسورۃ مطلقا عندھما وقال محمد تسن اذا خافت لا ان جھر وصحح فی البدائع قولھما والخلاف فی الاستنان اماعدم الکرھۃ فمتفق علیہ لھٰذا صرح فی الذخیرۃ و |
شیخین کے ہاں فاتحہ او ر سورت کے درمیان بسم اﷲ پڑھنا مطلقًا سنّت نہیں ۔امام محمد کہتے ہیں کہ سرّی نماز میں سنّت ہے مگر جہری میں سنّت نہیں، بدائع میں شیخین کے قول کوصحیح کہا گیا لیکن یہ اختلاف سنّت ہونے میں ہے، پڑھ لینا مکروہ نہیں اس پر اتفاق ہے، اسی لیے ذخیرہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع