30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ٤٠٦ : ١١محرم الحرام ١٣١٣ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ الحمدﷲ کے بعد جو سورۃ پڑھی جائے اُس پر بھی بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہیئے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں یہ ناجائز ہے اس لئے کہ ضم ِ سورت واجب ہے اور بسم اﷲ شریف پڑھنے سے ضم نہ ہوا فصل ہوگیا، یہ قول ان کا کیسا ہے؟
الجواب:
ہمارے علمائے محققین رحمہم اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کتب معتمدہ میں روشن تصریحیں فرما رہے ہیں کہ ابتدائے سورت پر بھی بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہئے مطلقًا مستحب و مستحسن ہے، خواہ نماز سِریہ ہو یا جہریہ ۔ اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کا ناجائز ہونا درکنار ہمارے ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں کوئی اس کی کراہت کا بھی قائل نہیں بلکہ سب ائمہ کرام بالاتفاق اسے خوب بہتر جانتے ہیں اختلاف صرف سنّیت میں ہے کہ جس طرح سرِّفاتحہ پر بسم اﷲ شریف بلا شبہہ سنت ہے یونہی سرِّ سورت پر بھی سنّت ہے یا مستحب۔امام محمد کے نزدیك سِرّیہ میں سنّت ہے، محیط ومضمرات وعتابہ ومستصفی وغیرہامیں اسی کی تصحیح فرمائی اور مذہب امام ،نفی استنان ہے اور اس پر فتوٰی اور یہی کلمات متون"لایاتی"و"لایمسی"(نہ لائے اور نہ بسم اﷲ پڑھے ۔ت)سے مراد بہرحال اس کی خُوبی و حُسن پر ہمارے سب ائمہ کا اتفاق ہے پھر اس کے بعد زید و عمرو کو اپنی رائے لگانے اور اتفاقِ ائمہ کرام کے خلاف اجتہاد کرنے کی گنجائش ، اور وہ بات بھی کچھ ٹھکانے کی ہو جس نے چند حروف فقہ کے پڑھے یا کسی عالم کی صحبت پائی وہ خوب جانتا ہے کہ ضمِ سورت جو واجب ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ خاص سورت ہی ملانی واجب ہے یہاں تك کہ بعد فاتحہ وسط سورت سے کسی رکوع کا پڑھنا ناجائز و موجب ترك واجب ٹھہرے کہ سورت بمعنی معروف کا ملانا اُس پر بھی صادق نہیں بلکہ اس سے مراد قرآنِ عظیم کی بعض آیات ملانا ہے کہ خواہ سورت ہو یا نہ ہو بسم اﷲ شریف خود ایك آیت ِ قرآن عظیم ہے تو اس کا ملانا قرآن عظیم ہی کا ملانا ہُوا نہ کسی غیر کا ، جو صاحب اتنا بھی خیال نہ فرمائیں اُنھیں احکام شریعت میں رائے زنی کیا مناسب ہے، اب تصریحات ِ علمائے کرام سنئے ،دُرمختار میں ہے:
|
(لا) تسن (بین الفاتحۃ والسورۃ مطلقا)ولو سرّیۃ ولا تکرہ اتفاقا١[1]۔ |
(نہیں ہے)بسم اﷲ پڑھنا سنت(فاتحہ اور سورت کے درمیان مطلقًا)اگرچہ نماز سری ہو، اور نہ مکروہ ہے اتفاقًا۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
صرح فی الذخیرۃ والمجتبی بانہ ان سمی |
ذخیرہ اور مجتبٰی میں اس بات کی تصریح ہے کہ فاتحہ اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع