30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجازت نہیں بلکہ فرض ہے کہ پُورے فرض قیام سے ادا کریں۔ کافی شرح وافی میں ہے:
|
ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترك القیام [1]۔ |
اگر ادنٰی مشقت لاحق ہو تو ترك قیام جائز نہ ہوگا۔(ت) |
ثانیًا مانا کہ انھیں اپنے تجربہ سابقہ خواہ کسی طبیب مسلمان حاذق عادل مستورالحال غیر ظاہر الفسق کے اخبار خواہ اپنے ظاہر حال کے نظر صحیح سے جو کم ہمتی و آرام طلبی پر مبنی نہ ہو بظن غالب معلوم ہے کہ قیام سے کوئی مرض جدید یا مرض موجود شدید و مدید ہوگا مگر یہ بات طول قیام میں ہوگی تھوڑی دیر کھڑے ہونے کی یقینًا طاقت رکھتے ہیں تو ان پر فرض تھا کہ جتنے قیام کی طاقت تھی اُتنا ادا کرتے یہاں تك کہ اگر صرف اﷲ اکبر کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے تو اتنا ہی قیام میں ادا کرتے جب وہ غلبہ ظن کی حالت پیش آتی تو بیٹھ جاتے یہ ابتدا سے بیٹھ کر پڑھنا بھی ان کی نماز کا مفسد ہُوا۔
ثالثًا ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ بقدر تکبیر بھی کھڑے ہونے کی قوت نہیں رکھتا مگر عصا کے سہارے سے یا کسی آدمی خواہ دیوار یا تکیہ لگا کر کُل یا بعض قیا م پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے کہ جتنا قیام اس سہارے یا تکیہ کے ذریعے سے کرسکے بجالائے ، کُل توکُل یا بعض تو بعض ورنہ صحیح مذہب میںاس کی نماز نہ ہوگی۔فقد مرمن الدر ولو متکأا علی عصااوحائط [2]۔(در کے حوالے سے گزرا اگرچہ عصا یا دیوار کے سہارے سے کھڑا ہوسکے،ت)تبیین الحقائق میں ہے:
|
لوقدرعلی القیام متکأا (قال الحلوانی) الصحیح انہ یصلی قائما متکأا ولا یجزیہ غیرذلك وکذلك لوقدران یعتمد علی عصا اوعلی خادم لہ فانہ یقوم ویتکیئ ٣[3]۔ |
اگر سہارے سے قیام کرسکتا ہو (حلوانی نے کہا ) تو صحیح یہی ہے کہ سہارے سے کھڑے ہوکر نماز ادا کرے اس کے علاوہ کفایت نہ کریگی اور اسی طرح اگر عصا یا خادم کے سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے تو قیام کرے اور سہارے سے نماز ادا کرے۔(ت) |
یہ سب مسائل خوب سمجھ لئے جائیں باقی اس مسئلہ کی تفصیل تام و تحقیق ہمارے فتاوٰی میںہے جس پر اطلاع نہایر ضرورواہم کہ آجکل ناواقفی سے جاہل تو جاہل بعض مدعیانِ علم بھی ان احکام کا خلاف کرکے ناحق اپنی نمازیں کھوتے اور صراحۃً مرتکب گناہ و تارك صلوٰۃ ہوتے ہیں۔وباﷲالعصمۃ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم و عملہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع