30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر ایك ہاتھ کا فرق نہ کسی مذہب کی کتاب میں نظر سے گزرا نہ کسی طرح قابلِ قبول ہوسکتا ہے کہ ہدایۃً طرز و روش ادب وخشوع سے جُدا ہے ، جن شافعیہ نے ایسا کیا غالبًا کوئی عذر ہوگا یا شاید ناواقفی کی بنا پر کہ مکہ معظمہ کا ہر متنفس تو عالم نہیں اعتبار اقوال و افعالِ علماء کا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر٤٠٤: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نفل نماز بیٹھ کر ادا کرے تو رکوع کس طرح ادا کریں یعنی سرین اُٹھیں یا نہیں ؟ درصورت مخالف نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہمی یا فاسد ؟ بینو توجروا۔
الجواب:
رکوع میں قدر واجب تو اسی قدر ہے کہ سرجھکا ئے اور پیٹھ کو قدرے خم د ے مگر بیٹھ کر نما ز پڑھے تو اسکا درجہ کمال و طریقہ اعتدال یہ ہے کہ پیشانی جھك کر گھٹنوںکے مقابل آجائے اس قدر کے لئے سرین اٹھانے کی حاجت نہیں تو قدر اعتدال سے جس قدر زائد ہوگا وُہ عبث و بیجا میں داخل ہو جائے گا۔
|
فی الحاشیۃ الشامیۃ فی حاشیۃ الفتال عن البرجندی ولوکان یصلی قاعداینبغی ان یحاذی جبھتہ قد ا م رکبتیہ لیحصل الرکوع اھ قلت ولعلہ محمول علی تمام الرکوع والا فقد علمت حصولہ باصل طأطأۃ الراس ای مع انحناء الظھر [1]تامل انتھی۔ |
حاشیہ شامیہ میں ہے برجندی کے حوالے سے حاشیہ قتال میں ہے اگر کوئی بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہو تو اپنی پیشانی کو گھٹنوں کے برابر جُھکائے تاکہ رکوع حاصل ہوجائے اھ قلت شاید یہ تمام رکوع پر محمول ہو کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ رکوع سرکو صرف جُھکا دینے سے یعنی ساتھ کچھ پیٹھ کو جُھکانے سے ادا ہوجاتا ہے، غور کرو انتہی۔ |
اور نماز میں جو ایسا فعل کیا جائے گا لااقل ناپسند مکروہ تنزیہی ہوگا۔
|
وفی الدرالمختار ویکرہ ترك کل سنۃ[2] انتھی ملتقطا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے کہ ہر سنت کا ترك مکروہ ہے انتہی ملتقطا۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔(ت) |
مسئلہ نمبر ٤٠٥: مرسلہ محمود حسین ٥محرم ١٣٠٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك شخص نماز کھڑے ہوکر بوجہ عذر بیماری کے نہیں پڑھ سکتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع