30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منقول ہے۔
|
قال فی ردالمحتار ینبغی ان یکون بینھما مقدار اربع اصابع الید لا نہ اقرب الی الخشوع ھکذا روی عن ابی نصر الدبوسی انہ کان یفعلہ کذا فی الکبرٰی[1]۔اھ اقول: بل فی نورالایضاح و شرحہ مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلا لی یسن تفریج القدمین فی القیام قدر اربع اصابع لانہ اقرب الی الخشوع[2]۔اھ قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ نص علیہ ف کتاب الاثرعن الامام ولم یحك فیہ خلافا اھ٣[3]۔ |
ردالمحتار میں ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ ہونا چاہیئے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے۔ابو نصر دبوسی سے اسی طرح منقول ہے کہ وہ یہی کرتے تھے کذا فی الکبرٰی اھ قول:(میں کہتا ہوں ) بلکہ نورالایضاح اور اسکی شرح مراقی الفلاح للعلامۃ الشربنالالی میں ہے کہ حالتِ قیام میں دونوں قدموں کو چار انگلیوں کے فاصلہ پر کھلا رکھنا سنّت ہے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے اھ سید طحطاوی نے اسکے حاشیہ میں فرمایا کہ کتاب الاثر میں امام صاحب نے اس پر نص کی ہے، اور اس میں اختلاف بیان نہیں کیا اھ(ت) |
امام علامہ جمال الدین یوسف اردبیلی شافعی نے بھی کتاب الانوار میں کہ اجل معتمدات مذہب شافعی سے ہے اسی چار انگل فصل کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی؛
|
حیث قال یکرہ الصاق القدمین ویستحب التفریق بینھما بقدر اربع اصابع٤[4]۔ |
قدموں کو ملا کر رکھنا مکروہ ہے ان کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ رکھنا مستحب ہے۔(ت) |
ہاںسید علّامہ شیخ زکریا انصاری شافعی قدس سرہ، نے شرح روض الطالب میں بالشت بھر کا فاصلہ تحریر فرمایا۔ حاشیہ الکمثری علی الانوار میں ہے:
|
قولہ بقدر اربع اصابع لعلھا متفرقۃ لان فی شرح الروض بقدر شبر[5]۔ |
اس کا قول"چار انگلیوں کی مقدار"شاید متفرق طور پر مراد ہوں کیونکہ شرح روض میں ہے کہ فاصلہ ایك بالشت ہونا چاہئے۔ (ت) |
[1] ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٢٩٩
[2] مراقی الفلاح و حاشیۃ مراقی فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت آرم باغ کراچی ص ١٤٣
[3] مراقی الفلاح و حاشیۃ مراقی فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت آرم باغ کراچی ص ١٤٣
[4] الانوار العمل الابرار لیوسف الکتاب الصلوٰۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ١/٦١
[5] حاشیہ الکمثری علی الانوار الصلوٰۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع