30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وشرح الزاھدی صاحب القنیۃ اور انہی سے مروی ہے پھر امام محمد نے فرمایا اشارہ کرنا میرا قول ہے اور قول ابی حنیفہ رحمہ اﷲ کا ۔علامہ حلبی نے ذخیرہ اور شرح الزاہدی صاحب ِ قنیہ سے اسے نقل کیا۔ وہ مذکورہ اور کبیری اور ردالمحتار میں اسے امام ابو یوسف رحمہ اﷲ سے روایت کیا یہاں تك کہ شامی نے اس حاشیہ میں تصریح کی:
|
ھو منقول عن ائمتنا الثلثلۃ۔[1]۔ |
(یہ ہمارے تینوں ائمہ سے منقول ہے۔ت) |
اور اسی میں ہے:
|
ھذا ما اعتمدہ المتأخرون لثبوتہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالاحادیث اصحیحۃ والصحۃ نقلہ عن ائمتنا الثلثۃ فلذا قال فی الفتح ان الاول(یعنی عدم الاشارہ) خلاف الدرایۃ والروایۃ ، وفیہ عن القھستانی وعن اصحابنا جمیعا انہ سنۃ فیحلق ابھام الیمنی و وسطاھا ملصقاراسھا براسہا ویشیر بالسبابۃ[2] ۔ |
اسی پر متاخرین نے اعتماد کیا کیونکہ نبیاکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے احادیث صحیحہ کے ساتھ ثابت ہے اور ہمارے تینوں ائمہ سے اس کا منقول ہونا صحیح ہے اسی لئے فتح میں کہا پہلا(یعنی اشارہ نہ کرنا) وروایت سے ہے کہ ہما رے تمام احناف کے نزدیك یہ سنّت ہے لہذا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیان انگلی کے سروں کو ملا کے حلقہ بناکر سبابہ سے اشارہ کرے (ت) |
کبیری میں ہے:
|
قبض الاصابع عند الاشارۃ المروی عن محمد فی کیفیۃ الاشارۃ وعن کثیر من المشائخ (انہ) لایشیر اصلا وھوخلاف الدریۃ والروایۃ فعن محمد ان ما ذکرہ فی کیفیۃ الاشارۃ ھو قولہ وقولہ ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی ملخصًا ٣[3]۔ |
اشارہ کے وقت انگلیا بند کرلے ، طریقہ اشارہ میں امام محمد سے یہی مروی ہے اور متعدد مشائخ کا قول ہے کہ اشارہً اصلًا نہ کیا جائے یہ درایر و روایت کے خلاف ہے۔امام محمد سے منقول ہے کہ کیفیتِ اشارہ میں کچھ ذکر کیا ہے یہ ان کا اور امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کا قول ہے ملخصًا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع