30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملّا قہستانی نے سنّت کہا ففی الدرالمختار(درمختار میں ہے ۔ت):
|
لکن المعتد ماصححہ الشراح ولاسیما المتاخرون کالکمال والحلبی والبھنسی والباقی وژیخ الاسلام الجد وغیرھم انہ یشیر لفعلہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ونسبوہ لمحمد ولامام بل فی متن دررالبحار وشرحہ غررالاذکار المفتی بہ عندنا انہ یشیر الخ افی الشرنبلالیۃ عن البرھان الصحیح انہ یشیر الخ واحتزر بالصحیح عماقیل لایشیر لانہ خلاف الدرایۃ والروایۃ الخ وفی العینی عن التحفۃ الاصح انھا مستجۃ وفی المحیط سنۃ انتھی ملتقطا [1]۔ |
لیکن معتمد وہی ہے جسے شارحین نے صحیح کیا خصوصًا متاخرین علماء کمال،حلبی، بہنسی،باقانی اور شیخ الاسلام الجد وغیرہم نے اشارہ کرنے کو صحیح قرار دیا کیونکہ یہنبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا عمل ہے اور انھوں نے اس قول کی نسبت امام محمد اورامام صاحب کی طرف کی ہے، بلکہ متن دررالبحار اور اسکی شرح غررالاذکار میں ہے کہ اشارہ کرنا ہمارے نزدیك مفتی بہ قول ہے الخ اور شرنبلالیہ میں برہان سے منقول ہے کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی اشارہ کرے الخ لفظِ صحیح کہہ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ قول کہ اشارہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ درایت و روایت دونوں کے خلاف ہے اور عینی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ اشارہ کرنا مستحب ہے ، اور محیط میں ہے کہ سنّت ہے انتہی ملتقطا۔(ت) |
اور اس مسئلہ میں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے روایتیںوارد جس نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ سے اُس میں عدم روایت یا روایت عدم کا زعم کیا محض ناواقفی یا خطائے بشری پر مبنی تھا امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی کتاب المشیخۃ میں دربارہ اشارہ ایك حدیث رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرکے فرماتے ہیں:فنفعل مافعل النبی صلی اﷲعلیہ وسلم ونصنع ماصنعہ وھو قول ابی حنیفۃ وقولنا ٢[2]۔ذکرہ العلامۃ الحلبی فی الحلیۃ عن البدائع یعنی پس ہم کرتے ہیں جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا اور عمل کرتے ہیں اس پر جو حضور کا فعل تھا اور وہ مذہب ہے امام ابو حنیفہ کا اور ہمارا۔اس کو علّامہ حلبی نے حلیہ میں بدائع سے نقل فرمایا ہے۔
ویروی عنہ رحمۃ اﷲ تعالٰی ثم قال ھذا قولی وقول ابی حنیفۃ ٣[3]۔اثرہ العلامۃ عن الذخیرۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع