30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صالح وعبد اﷲ بن مسعود فرمودہ رضی اﷲ تعالی عنہ اخروھن من حیث اخرھن[1]اﷲ اخرجہ عبدالرزاق فی المصنف و من طریقہ الطبرانی فع المعجم وزنان را حکم شد کہ در سجدہم بر زمین چسپد باند آنکہ سنت در مردان خلاف آنست ابوداؤد فی المراسیل عن یزید بن حبیب ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مر علی امرأتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی بعض الارض فان المرأۃ لیست فی ذالك کرجل[2] ویروی موصولا بوجہین قال البھقی ھو احسن منھما وسنت مرایشاں راتورك شد رواہ الامام ابو حنیفۃ عن نافع عن ابی عمر رضی اﷲ تعالی عنھما و فی الباب علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ قال اذا صلت المرأٰۃ فلتحتفر قال الجوھری تتضام اذا جلست واذا سجدت[3] واگر جماعت خواھند امام آنہا میاں آنہا ایستد، قال الامام محمد فی الاثار اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد بن ابی سلیمن عن ابراھیم النخعی ان عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا کانت تؤم النساء فی الشھر رمضان |
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابو امامہ اورحضرت عبدﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھم سے روایت کیاہے ، یہ بھی فرمایا عورت کی نماز کمرے میں گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل اور خاص چھوٹے کمرے میں اس سے بھی افضل ہے۔اسے ابو داؤد نے حضرت ابن مسعود سے حاکم نے حضرت امِّ سلمہ رضی اﷲ عنہ سے سند صالح سے روایت کیا ۔حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲعنہ کا فرمان ہے انھیں اسی طرح پیچھے رکھو جیسے انھیں اﷲ نے پیچھے رکھا ہے، اسے امام عبدالرزاق نے مصنف میں اور اسی سند سے طبرانی نے معجم میں ذکر کیا ہے نیز خواتین کے لئے حکم ہے کہ بوقتِ سجدہ زمین کے ساتھ چمٹ جائیں حالانکہ مردوں کے لئے اس کے خلاف کرنا سنّت ہے ابو داؤد نے المراسیل میں یزید بن حبیب سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دو خواتین کے پاس سے گزرے جو نماز ادا کر رہی تھیں فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ ملاؤ کیونکہ سجدہ کی حالت میں عورت مرد کی طرح نہیں ،اور یہ روایت دو سندوں سے متصل مروی ہے ۔ بیہقی فرماتے ہیں یہ سند دونوں سے احسن ہے ،خاص کر عورتوں کے لئے تورك (حالتِ قعدہ میں زمین کے ساتھ چمٹ کر بیٹھنا) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع