30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حدیثے است درصحیح خودش ہم از وائل ابن حجر رضی اﷲ عنہ: قال صلیت مع رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فوضع یدہ الیمینی علی یدہ الیسرے علی صدرہ [1] وازانجاکہ تاریخ مجہول است وہر دور روایت ثابت و مقبول ناچارکار بتر جیح افتاد چوں نیك نگریم مبنائے ایں امر بلکہ تمام افعال صلاۃ بر تعظیم است و معہود و معلوم عندالتعظیم دست زیرِ ناف بستن است، ولہذا امام محقق علی الاطلاق در فتح فرماید: فیحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرہ [2] پس دربارہ مرداں روایت ابن ابی شبیہ راحج تر آمد و درامرزنان شرع مطہر راکمال نظر برستروحجاب است و لہذا فرمودند : خیر صفوف الرجال اولھا وشرھا اٰخر ھا و خیرصفوف النساء اٰخرھا وشر ھا اولھا [3] اخرجہ الستہ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ والطبرٰنے فی الکبیر عن ابی امامۃ وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم وفرمودند صلاۃ المرأۃ فی بیتھا افضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا ٤[4] ۔اخرجہ ابو داؤد عن ابن مسعود والحاکم عن |
ابن خزیمہ اپنے صحیح میں حضرت وائل بن حجر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہی روایت لائیں ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھنے کا شرف پایا تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھیں چونکہ اس کی تعریف کا علم نہیں کہ کون سی روایت پہلے کی ہے اور کون سی بعد کی ، اور دونوں روایات ثابت و مقبول ہیں تو لاجرم دونوں میں سے کسی ایك کو ترجیح ہوگی جب ہم نماز کے اس فعل بلکہ نمازکے تمام افعال پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ تمام کے تمام تعظیم پر مبنی نظر آتے ہیں اور مسلم ومعروف تعظیم کا طریقہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے لہذا امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا ہے : قیام میں بقصد تعظیم ہاتھ باندھنے کا معاملہ معروف طریقے پر چھوڑا جائے اور قیام میں تعظیما ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہی معروف ہے ۔ لہذامردوں کے بارے ابن ابی شیبہ کی روایت راجح ہے اور چونکہ خواتین کے معاملہ میں شرع مطہر کا مطالبہ کمال ستر حجاب ہے،اس لئے فقہاء نے فرمایا مردوں کی پہلی صف افضل اور آخری غیر افضل اور خواتین کی آخری صف افضل اور پہلی غیر افضل یہ حدیث صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں ہے سوائے بخاری کے ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع