30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مفتیان عظام است اگر از احادیث رسول انام علیہ الصلوٰۃ والسلام ثابت است یا باتفاق امامان حنفیان راجع است برایں استفتا مُہر ودستخط بحوالہ کتاب الجواب الصواب(ت) |
اتفاق ہے یہ مسئلا اسی طرح ہے؟ اگر احادیث رسول انام صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے یا ائمہ احناف کے اتفاق کی بنا پر مسئلا اس طرح ہے جو بھی ہو اس استفتاء پر کتاب وسنت کے حوالے سے اپنی مہر ودستخط ثبت کرتے ہیں اور اﷲ تعالی سے اجر و ثواب پائیں کتاب کے حوالے سے درست جواب دیں۔ (ت) |
الجواب:
|
زنان رانزد حنفیہ کرام عمہم اﷲ باللطف والاکرام حکم آنست کہ دست درنماز بر سینہ بند ندوایں مسئلہ باتفاق ائمہ ماثابت است جم غفیر از علماء در تصانیف خودہا برو بے حکایت خلاف تنصیص کردہ اند علامہ محمد ابن محمد ابن محمد الشہیر بابن امیر الحاج الحلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی در شرح منیہ فر مود: الموضع الثالث فی محل الوضع فقال اصحا بنا محلہ تحت السرۃ فی حق الرجل والصدر فی حق المرأۃ اھ مخلصا[1] و نیز فرمود : المرأۃ تضعھما علی صدر ھا کما قال الجم اغفیر[2]۔لاجرم علّامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی رحمہ اﷲ تعالٰی درغنیہ ایں مسئلہ را متفق علیھا گفت و حدیث اگر بمواقف معلوم نیست |
علماء احناف ( اﷲ تعالٰی ان پر لطف و کرم عام فرمائے )کے نزدیك حکم یہ ہے کہ خواتین نماز مین سینے پر ہاتھ باندھیں ، اس مسئلہ پر ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے۔ علماء کا جم غفیر نے یہ بات اپنی اپنی کتب میں بغیر اختلاف نقل کی ہے، چنانچہ علّامہ محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیر الحاج حلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے منیہ کی شرح میں فرمایا : تیسرا٣مقام ہاتھ رکھنے کے بارے میں ہمارے علما نے فرمایا کہ مرد ناف کے نیچے اور عورت سینہ پر ہاتھ باندھے اھ ملخصًا ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جیسا کہ جمِ غفیر نے تصریح کی ہے اور علّامہ ابراہیم بن محمد بن ابرہیم حلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے غنیہ میں اس مسئلہ پر اتفاق علما کی تصریح کی ہے او راگر کوئی حدیث اس کے موافق نہیں ملتی تو اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع