30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تکن مستقرۃ ویمکنہ الخروج عنھا لم تجز الصلاۃ فیھا [1]اھ اقول واطلاق الھدایۃ واجب الحمل علی ھذہ النصوص الصریحۃ المقیدۃ وکم لہ من نظیر کما صرح بہ الجم الغفیر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہوگی اور اگر مستقر نہ ہو اور اس سے نکلنا بھی ممکن ہو تو اب اس میں نماز صحیح نہ ہو گی اھ اقول ہدایہ کے اطلاق کو ان صریح مقید نصوص پر محمول کرنا واجب ہے اور اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ جم غفیر نے اس کی تصریح کی ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ نمبر ٣٩٩ : ٢٤ربیع الاوّل ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو نمازیں حالتِ مجبوری و معذوری میں بیٹھ کر پڑھی گئیں جیسے سفرِحج میں جہاز کے اندر کہ سخت حالت طغیانی میں تھا اور تین دن تك برابر طغیانی عظیم میں رہا ایسی حالت میں قیام نہایت دشوار اورغیر ممکن تھا اور نیز خوفِ جان تھا پس ایسی حالت میں جتنی نمازیں پڑھی گئی ہیں اُن کا اعادہ حالتِ قرار واقامت میں واجب ولازم وضروری ہے یا نہیں؟ نیز وہ نمازیں کہ اونٹ پر شغدف وغیرہ میں قافلہ کے چلنے کی حالت میں بیٹھ کر پڑھی گئی ہیں کیونکہ بُڈھے آدمی کو اُتارنے چڑھانے والا نہ تھا اور اُترنے کی صورت میں قافلے سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ تھا جس سے خوفِ جان ومال ہوتا ہے پس ان صورتوں میں جو نمازیں اونٹ کی سواری پر اور حالت طغیانی میں جہاز پر بیٹھ کر مجبورًا پڑھی گئیں اُن سب کا اعادہ بصورتِ اقامت و اطمینان کرنا چاہئے یا نہیں؟
الجواب:
ان کا اعادہ نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع