30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النفل فتجورعلی المحمل والعجلۃ مطلقا[1]۔ |
قبلہ رُخ کھڑی کی ہو ، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بقدر الامکان قبلہ رُخ کھڑا کرنا شرط ہے تاکہ اسکے چلنے سے مکان میں تبدیلی نہ ہو جائے باقی نوافل کجاوے اور بیل گاڑی میں پڑھنا مطلقًا جائز ہیں۔(ت) |
خود ردالمحتار میں ہے:
|
الحاصل ان کلامن اتحاد المکان واستقبال القبلۃ شرط فی صلاۃ غیر النافلۃ عند الامکان لا یقسط الا بعذر فلو امکنہ ایقافھا مستقبلا فعل بقی لو امکنہ الایقاف دون الاستقبال فلا کلام فی لزمہ لماذکرہ الشارح من العلۃ [2](ملخصًا) |
حاصل یہ ہے کہ جہاں تك ممکن ہو نوافل کے علاوہ نماز میں اتحادِ مکان اور استقبالِ قبلہ دونوں شرط ہیں تو شرطِ عذر کے بغیر ساقط نہ ہوگی ، پس اگر سواری کو قبلہ رُخ کھڑا کرسکے تو کرے باقی رہایہ کہ اگر کھڑا کرسکتا ہے مگر قبلہ رخ کھڑا نہیں کرسکتا تو کھڑا کرنا لازم ہے جیسا کہ شارح نے اسکی علت ذکر کی ہے (یعنی تاکہ اتحاد مکان سب نماز میں حاصل رہے) (ملخصًا) ۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
الفرض والواجب بانواعہ لایصح علی الدابۃ الا لضرورۃ ، فیومی علیھا بشرط ایقافھاجھۃ القبلۃ ان امکنہ ، واذاکانت تسیرلاتجوز الصلاۃ علیھا اذاقدر علی ایقافھا والابان کان خوفہ من عدو یصلی کیف قدرکمافی الامدادوغیرہ اھ٣[3] اقول فثبت ان المانع شیأان الاول کون الصلاۃ علی دابۃ ولو بواسطۃ عجلۃ طرفھا علی دابۃ الثانی السیر واختلاف المکان الا تری انھم اوجبوا الایقاف وابطلو |
فرض اور واجبات کی تمام انواع کو بغیر ضرورت کے چارپائے پر ادا نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر ضرورت و عذر کے وقت اس پر اشارے سے نماز ادا کرے بشرطیکہ امکانی حد تك دابہ کو قبلہ رُخ کھڑا کرے جب دابہ کھڑا کرنے پر قادر ہو تو ایسی صورت میں چلتے ہوئے دابہ (جانور) پر نماز جائز نہیں ، البتہ کھڑا کرنا ممکن نہ ہو مثلًا اگر اسے دشمن کا خوف ہے تو جس طرح ممکن ہو نماز ادا کرے ۔ امداد وغیرہ میں اسی طرح ہے اھ میں کہتا ہوں یہ ثابت ہوا کہ مانع ٢دو چیزیں ہیں، پہلی چیز نماز کا جانور کے اوپر پڑھنا اگرچہ بوسطہ بیل گاڑی کے جس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع