30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعینہ [1]۔ |
مکمل و برابر ہونا جماعت میں مطلوب ہے۔(ت) |
اسی طرح فتح الباری امام ابن حجر عسقلانی ، پھر ارشاد الساری امام احمد قسطلانی وغیرہما میں ہے نیز فتح الباری میں محبِ طبری سے ہے:
|
محل الکرھۃ عند عدم الضیق [2]۔ |
جب تنگی نہ ہو تو پھر مکروہ ہے۔(ت) |
عمدۃ القاری میں ابن حبیب سے ہے:
|
لیس النھی عن تقطیع الصفوف اذاضاق المسجد و انما نھی عنہ اذکان المسجد واسعا[3]۔ |
جب مسجد تنگ ہو تو اس وقت صفوں کو توڑنا منع نہیں، یہ اسوقت منع ہے جب مسجد کشادہ ہو۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
قال مالك فی المدونۃ لاباس بالصلاۃبینھما لضیق المسجد [4] اھ ثم ذکر قول ابن حبیب اقول: ولا یخفی انہ مستقیم عل قواعد مذھبنا۔ |
امام مالك مدوّنہ میں فرماتے ہیں جب مسجد تنگ ہو تو دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے میں حرج نہیں اھ۔ پھر انھوں نے ابن حبیب کا قول نقل کیا ہے۔ اقول: مخفی نہ رہے یہ ہمارے مذہب کے قواعد پر درست ہے۔ (ت) |
دُرمختار میں ہے:
|
ھذا کلہ عندعدم العذر کجمعۃ وعید فلوقاموا علی الرفوف والامام علی الارض اوفی المحراب لضیق المکان لم یکرہ ٥[5]۔ |
یہ تمام (یعنی کرہت) اس وقت ہے جب عذر نہ ہو عذر کی صورت میں مثلًا جمعہ اور عید کے بھِیڑ کے موقع پر بھی اگر مسجد تنگ ہو اور بعض نمازی رفوف ف (دروازے کے تختے ) پر کھڑے ہوں اور امام زمین پر یا محراب میں ہو تو کراہت نہیں ۔(ت) |
[1] عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ٤/٢٨٤
[2] فتح الباری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ٢/١٢٤
[3] عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ٤/٢٨٦
[4] عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ٤/٢٨٦
[5] درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٩٢
ف: رفوف جمع رف کی ہے اس کے کئی معانی ہیں، ایك معنی یہ ہے"وہ لکڑی جس کے دونوں کنارے دیوار میں لگاکر اس پر گھر کا سامان رکھتے ہیں"یہاں مراد دروازے کے درمیان بلند جگہ بھی ہو سکتی ہے اور زمین سے بلند مقام بھی ہوسکتا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع