30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماہرین کے علمی کارناموں سے اپنے اوربیگانے سبھی ناآشنا اور کم آگاہ ہیں مگر ان میں سے بعض اہل علم توبے قدری اور احسان ناشناسی کی حد تک گمنام چلے آتے ہیں اورلوگ ان کے حقیقی مقام ومرتبے کے منکردکھائی دیتے ہیں۔ برعظیم کی جن ہستیوں کودانستہ یانادانستہ طوپر فراموشی وبے قدری کامستحق گردانا گیا اور ان میں سے ایک کاتعلق سرزمین پنجاب سے ہے اور دوسرے کاتعلق علم وثقافت کے خطے یوپی سے ہے۔ پنجاب کی نادرئہ روزگارہستی اور بیمثال عبقری تومولانا عبدالعزیز پرہاروی (رحمہ اﷲ) تھے جومشہورعرب شاعرابوالقاسم الشابی اور ایک انگریز شاعر کیٹس کی طرح جوانی میں ہی دنیا سے کوچ کرگئے مگرعلمی کارناموں کے لحاظ سے ان کی مختصرعمربھی طویل مدت ثابت ہوئی۔ مولاناپرہاروی رحمۃ اﷲ علیہ جس شہرت اور عزت کے مستحق تھے وہ نہ توانہیں زندگی میں مل سکی اور نہ موت کے بعد گمنامی کاپردہ چاک ہوسکا۔ پنجاب کے اس عظیم عبقری اورعالم دین کوکماحقہ، متعارف کرانے کاشرف اﷲ تعالٰی نے مجھے بخشا ہے،ان کے متعلق خودبھی لکھاہے اور دو۲مقالے پی ایچ ڈی کے بھی میری نگرانی میں ہورہے ہیں۔
خطّہ علم وثقافت یوپی سے اُٹھنے والی ہستی فاضل بریلوی مولانا احمدرضا (رحمۃ اﷲعلیہ) ہیں جن کے علمی کارناموں سے شدیداغماض برتاگیا بلکہ ان کے فضل وکمال سے انکارکیاگیا، یہی نہیں بلکہ بدنامی کی جسارتیں بھی ہوتی رہیں، بظاہر اس کے تین اسباب نظرآتے ہیں:
پہلاسبب توخودان کے نام لیواؤں
کی کمزوری ہے جو ان کے علمی کارناموں کوعام کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کرسکے، الاماشاء اﷲ!
دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ عالمی ادارے یاتنظیمیں جوبرعظیم میں اہل علم کومتعارف کرانے
کے ذمہ دار تھے وہ حضرت فاضل بریلوی کی قدرشناسی اور اعتراف فضل سے گریزاں رہے۔
میرے خیا ل میں ا س کاتیسراسبب حسدورقابت کے جذبات ہوسکتے ہیں، معمولی آدمیوں کوایسے حادثے کم پیش آتے ہیں مگرغیرمعمولی ذہانت وقابلیت کے مالک انسانوں کے لئے مخالفت وعداوت اور حسد ورقابت بھی غیرمعمولی نوعیت کی سامنے آتی ہے۔امام احمدرضارحمہ اﷲ تعالٰی کثیرالجوانب عبقریت کے مالک تھے غالباً اس وجہ سے ان کے علمی کارناموں کوپردہ خفا میں رکھنے اور ان پرخاک ڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔
بہرحال یہ بات باعث اطمینان ہونی چاہئے کہ اب برعظیم پاک وہند میں ایسے افراد وادارے وجود میں آچکے ہیں جوحضرت فاضل بریلوی کے تعارف کے ضمن میں تلافی مافات کے لئے کوشاں ہیں۔
__________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع