30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صٰلحا ترضٰہُ واجعلنی من التائبین وادخلنی برحمتك فی الصّٰلحین اٰمین و صلی اﷲتعالی علی سیّدنا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین اٰمین۔
افَادہ ثانیہ: علی گڑھ میں انقلابین کی سعت المغرب کیا ہے۔الحمدﷲ کہ جہت قبلہ کے معنی آفتاب کی طرح واضح ہوگئے اور معلوم ہولیا کہ جب تك حدود جہت کے اندر ہے جواز و ابا حت ہے حتی الوسع اصابت عین صرف مستحب ہے اب یہ دیکھنا رہا کہ مقام ادغا متانزعہ فیہ کا انحراف ہے حدود جہت کے اندر ہے یا نہیں ، اس کے لئے اُس ظاہری وسعت اقوال سابقہ کی تکلیف دینی درکنار قول پنجم جسے ہم محقق و منقح کرآئے اُس سے بھی تنزل کریں اور اس میں بین المغربین ہی کی تحدید کو لیں کہ ہمارے بلاد میں واقعی یہی سب سے تنگ تر ہے تاکہ ناواقف فتوٰی دہندوں کو کوئی شکایت نہ رہ جائے اس لئے اوّلًا علی گڑھ میں راس الجدی و راس السرطان کی سعۃ المغرب معلوم کرنی ضروری ہے
![]()
فنقول: ا ب ح ء افق علی گڑھ ہے ا ء قوس معدل ، ہ قطب شمالی ح راس الجدی ، وقت غروب ہ ح، دائرہ میلیہ رح میل کلی ٢٣ْ ٢٧َ اح سعۃ المغرب مثلث ا ر ح قائم الزاویہ میں زاویہ ا تمام عرض البلد یعنی ٦٢ْ ٤َ ہے کہ زاویہ تقاطع معدل و افق ہمیشہ تمام عرض بلد ہو تا ہے الاتری ان قیا سھا قوس ط ح و ی سمت راس البلد فکان ی ط عرضہ و ط عرضہ و ط ح تمامہ بحکم شکل مغنی جیب میل : جیب تمام عرض : جیب اح مجہول : ع:. بلوگارثم جیب اول ٥٩٩٨١٧٠ء٩-جیب دوم ٩٤٦٢٠٣٢ء٩ = جیب سوم ٦٥٣٦٢٣٨ء ٩ قوسہ الومو صہ ۔ معلوم ہوا کہ علی گڑھ میں راس السرطان نقطہ مغرب سے ٢٦ درجے ٤٦دقیقے شمال کو اور راس الجدی اسی قدر جنوب کو ہٹا ہوا ڈوبتاہے۔
افادہ ثالثہ: یہ عید گاہ نقطہ مغرب سے کس قدر منحرف ہے۔ اب وضوحِ مقصد میں صرف اتنی ہی بات کا دریافت کرنا رہا ، اگر ثابت ہوکہ اس کا انحراف پونے ستائیس درجے سے کم ہے تو یقینًا وہ اس سب سے تنگ تر قول پربھی جہت قبلہ کی طرف ہے اوراُس میں نماز مکروہ تحریمی بتانا اور اسے ڈھانا فرض ٹھرانا سب جہل وافتراء ، اس کے ادراك کو عید گاہ مذکور کی دیوارِقبلہ کا جنوبًا شمالًا طول درکار تھا ، دریافت کئے پر تحریر آئی کہ ساڑھے بیاسی گز ہے، اگر یہ پیمائش اور معترضوں کا وُہ دعوٰی کہ دیوار محاذات قطب شمالی سے نوّے فٹ جانب مغرب ہٹی ہوئی ہے صحیح ہے تو زاویہ انحراف کرنا مشکل نہیں فاقول: ء نقطہ قطب اور ا ب دیوارِقبلہ ، بحالت موجودہ ب سے ٹھیك سمت ء پر خط ب ح غیر محدود کھینچا اور ب کو مرکز فرض کرکے ا کے بعد پر قوس ا ر ح رسم کی جس نے خط کو نقطہ ح پر قطع کیا تو ب ح اُس حالت پر دیوار ہوگی جس پر معترضین اُسے لانا چاہتے ہیں،

کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع