30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عاشرًا ناواقف گمان کرے گا کہ اس قول میں بہ نسبت دیگر اقوال کے تضییق ہے معظم معمورہ میں سعت ٤٥ درجے سے بھی کم ہے مگر یہ خیال باطل ہے ہم ابھی ثابت کر آئے کہ اس میں قبلہ حقیقی سے ساٹھ درجے انحراف روا ٹھرتا ہے اور تنقیح کیجئے تو اس کی وسعت ظاہر قولین اولین سے کچھ کم نہیں بلکہ زائد ہے ٦٦صہ -٣٣کے عرض پر مجموع سعتین کے پُورے ایك سو اسی١٨٠ درجے ہیں۔
|
اقول: والبرھان علیہ تساوی المیل الکلی وتمام عرض البلد فتساوی جیوبھما وفی المثلث الکروی نسب جیوب الزاویا الی جیوب اوتارھا متسایۃ فیتساوی جیوب السعۃ والقائمۃ وبہ یظھر فی کلام المدقق الرومی فی شرح الچغمینی حیث قال سعۃ المشرق والمغرب تزید بزیادۃ العرض الی ان تبلغ قریبا من الربع مالم یبلغ العرض ربعا١[1]اھ |
اقول: (میں کہتا ہوں)اس پر دلیل میل کلی اور تمام عرض بلد کا متساوی ہونا ہے تو اس طرح ان دونوں کی جیبیں بھی متساوی ہوں گی اور مثلثِ کروی میں جنوب زوایا کو اس کے جیوب اوتار کی طرف متساوی منسوب کیا گیا ہے تو اس طرح جیوب سعتہ وقائمہ دونوں متساوی ہوں گے اور اسی سے شرح چغمینی میں فاضل رومی کے دقیق کلام میں جو ابہام ہے واضح ہوجاتا ہے جیسا کہ اُنھوں نے فرمایا : سعۃ مشرق و مغرب عرض کے بڑھنے سے بڑھتی رہتی ہے یہاں تك کہ سعۃ قریب ربع کو پہنچ جائے جبکہ عرض بلد ربع کو نہ پہنچی ہو اھ(ت) |
بلکہ حسم مناقشہ کے لئے ساٹھ٦٠ ہی درجے کا عرض لیجئے کہ وہاں سعت٥٢ْ ٤٤َہوا، فرض کیجئے کہ انحراف جنوبی ٧٧ْ ١٧َ ہو کہ اس سے زیادہ کا انحراف ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں ، اب اگر مصلی نقطہ مغرب سے ٥٢ْ ٤٣َ شمال کو پھر کر کھڑا ہو اس قول پر نماز صحیح ہوگی کہ قبلہ بین المغربین کے اندر ہے حالانکہ قبلہ حقیقی سے پُورا ایك سو تیس درجے پھرا ہوا ہے قولین اولین کے ظاہر پر تو قبلے کو کروٹ ہی ہوتی تھی یہاں اس سے بھی گزر کر پیٹھ کا حصہ ہے اور استقبال موجود ، بالجملہ اس پر وہ استحا لات ہائلہ وارد ہیں جن کا شمار دشوار تو یہ قول اس قول پر نقلا عقلا اصلا قابل قبول نہیں اورخد اسی قدر اُس کی غرابت و نامسموعی کو بس تھا کہ تمام کتب معتمدہ کے پانچوں اقوال سے صریح مناقص ہے، ہاں اُس وجہ پرکہ فقیر نے تقریرکی ،ضرور صحیح ونجیح ہے وباﷲالتوفیق،الحمدﷲ کہ جہتِ قبلہ کا ہی کافی وافی شافی صافی بیان اُس جلالتِ شان و ایضاح صواب و احاطہ وتحقیق وکشف و حجاب کے ساتھ واقع ہُوا کہ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گا ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون رب اوزعنی ان اشکر نعمتک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع