30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذکر فی امالی الفتاوی، حدالقبلۃ فی بلادنا یعنی فی سمرقند ما بین المغربین المغربین مغرب الشتاء ومغرب الصیف[1] |
امالی الفتاوٰی میں ذکر کیا گیا ہے کہ ہمارے سمرقند کے علاقہ میں قبلہ کی حد گرمیوں اور سردیوں کے دونوں مغربوں کے درمیان ہے۔(ت) |
انھیں بلاد شرقیہ سے ہرات ہے، علّامہ برجندی فرماتے ہیں: ہم نے اسکا قبلہ تحقیق کیا، بین المغربین سے باہر جنوب کو ہٹاہوا پایا۔ اور اسی کے مطابق امام عبداﷲ بن مبارك مروزی وامام ابومطیع بلخی کا ارشاد آیا،شرح نقایہ میں ہے:
|
نحن قد حققنا بتلك القواعد قبلۃ ھراۃ فظھر لناانہ یقع عن یسار مغرب اقصر ایام السنۃ حیث یغرب کواکب العقرب وھوالموافق لماذکرہ عبداﷲ بن المبارك وابومطیع فما وقع فی تجنیس الملتقط انہ لوصلی الی جھۃ خرجت ممابین مغرب الصیف ومغرب الشتاء فسدت صلاتہ انما یصح فی بعض البقاع [2] (ملخصا )۔ |
ہم نے ان قواعد سے ہرات کے قبلہ کی سمت تحقیق کی ہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ سال کے چھوٹے دن کے مغرب سے بائیں جانب جہاں عقرب کے ستارے غروب ہوتے ہیں یہاں کا قبلہ ہے ، عبداﷲ بن مبارك اور ابو مطیع کے بیان کے یہی مطابق ہے اور جوتجنیس الملتقط میں ہے کہ اگر نمازی نے گرمیوں کے مغرب اور سردیوں کے مغرب سے خارج کسی جہت میں نماز پڑھی تو اسکی نماز فاسد ہوگی ، تو یہ بات بعض علاقوں میں درست ہوسکتی ہے ملحضًا(ت) |
اقول: حقیقت امر یہ ہے کہ معظم معمورہ میں اکثر بلاد ِشرقیہ کا قبلہ تحقیقی مغرب سرطان سے مغرب جدی تك ہے اوربہ نسبت درجات ادراك مغربین ہر شخص پر آسان اور اُن بلادکثیرہ میں اگر چہ جہت قبلہ مغربین سے باہر تك ممتد مگر امر محدود سہل الادراك کی تعیین جو حدود قبلہ کے اندر داخل ہے مضائقہ نہیں رکھتی بلکہ بارہا اُس میں زیادہ تقریب ہے جس سے سہولت و قرب بحقیقت ، دونوں منافع حاصل ، لہذا علماء نے ان بلاد میں عامہ کو مابین المغربین کی تحدید بتائی اُس کے معنی یہ نہ تھے کہ اس سے باہر جہت اصلًا نہیں ، اور مغربین سے تجاوز ہوتے ہی نماز فاسد ہو، مگر شرح خلاصہ قہستانی اور شرح زادالفقیر میں بحوالہ بعض کتب معتمدہ کہ شاید وہی شرح خلاصہ ہو کہ وہ تمام عبارت بعینہا فقیر نے اس میں پائی ، بعد عبارت مذکور ہے: واذاوقع توجھہ خار جا منھا لایجوز بالاتفاق[3] (اگر اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع