30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذلك بل الاظھر کما افادالامام الحلبی فی الحلیۃ وعلی القاری فی المرقاۃ ان المراد لاھل المدینۃ وما وافق قبلتھا۔ اقول: ومعلوم ان المدینۃ السکینۃ علی شمالیتھا من مکۃ المکرمۃ مائلۃ قلیلا الی المغرب دون المشرق ثم ان البغوی فی التفسیر والرازی فی الکبیروالمناوی فی التیسیر حملوا المشرق علی اقصریوم فی الشتاء قال فی المناوی وھو مطلع قلب العقرب١[1]۔ اقول: ولا یستقیم الابفرق عدۃ درج ولا فی زمانہ اذکان اذذاك بعد القلب عــــہ الہصــہ لو جنوبیا والمغرب علی مغرب اطول یوم فی الصیف قال |
نے یہ کیوں فرمایا________ جبکہ زیادہ ظاہر وہ معنٰی ہے جس کا افادہ امام حلبی نے حلیہ میں اور ملّا علی قاری نے مرقات میں فرمایا کہ اس سے مدینہ منورہ اور اسکے اردگرد والوں کا قبلہ مراد ہے۔ اقول: ( میں کہتا ہوں ) مدینہ منورہ کا مکہ مکرمہ سے شمال میں تھوڑا سا مغرب کی طرف مائل ہونا واضح طور معلوم ہے نہ کہ مشرق کی طرف ، پھر امام بغوی نے اپنی تفسیر ،امام رازی نے تفسیر کبیر میں اور امام مناوی نے التیسیر میں مشرق سے مراد سردیوں میں سب سے چھوٹے دن کا مطلع مراد کیا ہے، امام مناوی نے یوں فرمایا کہ وُہ عقرب کے قلب کا مطلع ہے۔(ت) اقول: (میں کہتا ہوں)یہ بیان چند درجوں کے فرق بغیر درست نہیں ہو سکتا ، اور نہ ہی ان کے زمانے میں یہ درست تھا کیونکہ اُس وقت قلب کا بُعد الہ صہ لو جنوبی تھا ، اور ان حضرات نے مغرب کو گرمیوں |
|
عــــہ طول القلب فی زمان المناوی ح صہ ہ تقریبا فالبعد عن الاعتدال الاقرب سہصہ جیبہ فی اللوغارثمیات ٩٥٧٢٧٥٧ء٩x ظل المیل الکلی ذاك الح الط تقریبًا ٦٣٧٩٥٦٣ء٩=٥٩٥٢٣٢٠ ء٩ قوسہ کا الط ل ھوالمیل الثانی للقلب ثم بُعد درجۃ القلب عن الانقلاب الاقرب الہ جیبہ ٦٢٥٩٤٨٣ء٩+جیب المیل الکلی الح الط ٦٠٠٤٠٩٠ء٩ =٢٦٣٥٧٣ء٩ قوسہ ط صہ مامح المیل الکلی |
علّامہ منادی کے زمانہ میں طول القلب تقریبًا ح صہ تھا تو اعتدالِ اقرب سے اس کا بُعد سہصہ جس کا جیب لوگارثم ٩٥٧٢٧٥٧ئ٩x اس کے میل کلی کا ظل الح الط تقریبًا ٩٥٦٣ ٦٣٧ئ٩ = ٥٩٥٢٣٢٠ئ٩ ہوگا اس کے قوس کا الط ل ہوگا جو کہ قلب کے لئے میل ثانی ہے پھر انقلاب اقرب سے قلب کے درجہ بُعد الہ ہوگا جس کا جیب ٦٢٥٩٤٨٣ئ٩+ میل کلی کا جیب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع