30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اُس کے مثل ارشادات ِ امیر المؤمنین فاروقِ اعظم و عبداﷲ بن عمروغیرہما صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم
اقول: اُس کا یہ مفاد ہونا ہر گز مسلّم نہیں نہ ممکن التسلیم کہ شرق سے غرب تك نصف دَور میں قبلہ پھیلا ہوا ہے ورنہ لازم کہ نصف دیگر میںاستدبار پھیلے کہ استقبال و استدبار دو جہت مقابل ہیں سارا دائرہ انہی دو جہتوں نے گھیر لیا، اب ارشاد اقدس ولکن شرقوا او غربوا ( لیکن پورب اور پچھم کی طرف منہ کرو۔ت) کا کیا محل رہے گا، مگر یہ کہیں کہ خاص نقطتین مشرق و مغرب مستثنٰی ہیں تو لازم ہو گا کہ ہر شخص جو پیشاب کو بیٹھے یا پاخانے کو جائے صحیح آلات معرفت نقاط ساتھ لیتا جائے حالانکہ آلات بھی حقیقی تعیین نقاط سے قاصر ہیں ، اگر کہیے عرفًا جہاں تك جہت مشرق و مغرب پھیلے گی وہ سب مستثنٰی ہے فان بین اذااضیف الی غیر الاعداد لم یدخل فیہ الغایتان کما فی الفتح (لفظ"بین"جب غیر عدد کی طرف مضاف ہو تو ابتداء اور انتہا دونوں غایتیں اس میں داخل نہ ہوں گی جیسا کہ فتح میں ہے۔ت)
اقول: اب ٹھکانے سے آگئے عرف میں جہتیں چارہی سمجھی جاتی ہیں اور جو ایك سے قریب ہے وُہ وہ اسی کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس نصف دور کے ٨٠ ١درجے سے ٤٥-٤٥ درجے کہ مشرق و مغرب سے قریب ہیں ان کے حصے میں رہ کر مستثنٰی ہوں گے بیچ کے ٩٠ درجے جن کی وسط میں کعبہ واقع ہے جہت ِ قبلہ رہیں گے وھوالمطلوب(اور یہی مطلوب ہے ۔ت) معہذا ایك جماعتِ علماء نے یہاں بین بمعنٰی وسط لیا یعنی مشر ق و مغرب کے اندر جو قوس جنوبی ہے اُس کے وسط و منتصف کی طرف قبلہ مدینہ سکینہ ہے۔
اقول: اور اُس کے مؤید قول مذکور عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما ہے کہ جب توُ مغرب کو اپنے دہنے بازو اور مشرق کو بائیں بازو پر لے تو اُس وقت تیرا منہ قبلے کو ہے،
|
وکانہ رضی اﷲ عنہ لذازاد قولہ اذًا استقبلت بعد قولہ فما بینھما قبلۃ لکون ھذا محتملا لخلاف المراد ھذا و حملہ الامام الاجل عبداﷲ بن المبارك علی ان ھذا لاھل المشرق وکذاقال الشیخ البغوی فی المعالم انہ صلی اﷲ علیہ وسلم اراد بقولہ بابین المشرق والمغرب قبلۃ فی حق اھل المشرق ١[1]اھ ولا ادری ماالحامل |
ہو سکتا ہے کہ عبداﷲ بن عمر نے اپنے قول"فما بینھما قبلۃ"کے بعد"اذًا استقبلت"کا لفظ اسی لئے بڑھایا ہو کہ فما بینھما قبلۃمیں اس سے مراد کے خلاف کا احتمال تھا۔ امام عبداﷲ بن مبارك نے مابین المشر والمغرب والی حدیث کو اہل مشرق کے لئے قرار دیا ہے۔ امام بغوی نے اس کو یوں بیان کیا اور معالم میں فرمایا کہ حضور نے اپنا قول"مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہےــ"اہل مشرق کے حق میں فرمایا اھ مجھے معلوم نہیں کہ ان حضرات |
[1] تفسیر البغوی المعروف معالم التنزیل مع الخازن زیر آیۃ وما انت بتابع مطبعہ مصطفٰی البابی مصر ١/١٢٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع