30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا امام احمد و بخاری و مسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم حضرت ابو ایّوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲؐ فرماتے ہیں:
|
اذااتی احدکم الغائط فلا یستقبل القبلۃ ولا یولھا ظھرہ ولکن شرقو اوغربوا١ [1]۔ |
جب تم میں سے کوئی شخص پاخانے کو جائے تو نہ قبلہ کو منہ کرے نہ پیٹھ ہاں پُورب پچھم منہ کرو۔ |
مدینہ طیبہ کا قبلہ جانبِ جنوب ہے لہذا شرقًا غربًا منہ کرنا فرمایا، ہمارے بلاد میں جنوبًا شمالًا ہوگا۔ حدیث میں جنوب شمال کے کسی حصے کو رُو یا پُشت کرنے کی اجازت ارشاد نہ ہوئی اور مشرق و مغرب کے کسی حصّے کا استثناء نہ فرمایا تو دائرہ ئ اُفق کے صاف چار٤ حصے ظاہر ہُوئے جن میں ایك جہت استقبال ہے۔
ثالثًا عرف عام میں بھی یہ دائرہ چار ہی ربع پر منقسم شرق غرب جنوب شمال، اور بدنِ انسان بھی چار ہی رُخ و پہلو رکھتا ہے قدام ، خلف ، یمین ،شمال ۔انہی میں فوق و تحت ملا کر تمام جہان میں جہات ستّہ مشہور ہیں ، ان چاروں میں ایك دوسری پر کوئی ترجیح نہیں ، کوئی وجہ نہیں کہ مثلًا ایك کا اتساع ١٤٠ درجے تك لیا جاوے اور دوسری کا صر ف ٤٠ تک، تو دائرہ افق چار ربع متساوی ہی پر تقسیم ہونا چاہیئے۔
رابعًا : دائرہ افق میں چار نقطے مفروض ہوئے اُن میں ایك نقطہ ئ استقبال حقیقی ہے ، دوسرا استدبار حقیقی، دو باقی یمین و شمال حقیقی، تو جوان میں کسی نقطہ کا ٹھیك محاذی نہ ہو اُس کی تقریب لاجرم راجع بقریب ہوگی بعید کی طرف نسبت تبعید ہے نہ کہ تقریب ، لاجرم ہر ایك پہلو پر وہی ثمن ثمن دور اُس کا حصہ پڑے گا۔
خامسًا: تمام اقوالِ مذکورہ میں یہ ایسا نص ہے کہ دوسری طرف راجع نہ ہوگا اور بقیہ اقوال سب اس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور فائدہ مستمرہ ہے کہ توفیق ابقائے خلاف سے اولٰی ہے اور متحمل جانب مفسر رد کیا جاتا ہے، قول سوم و چہارم کا یہی محصل ہوناتو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں اور قولِ اوّل میں عبارتِ منیہ قبلۃ اھل المشرق والمغرب عندنا [2]ہمارے نزدیك اہل مشرق و اہل مغرب کا قبلہ ت)کی شرح اما م ابن امیر الحاج نے اسی عبار ت ذخیرہ عن نظم الزندویسی سے فرمائی جس میں تقسیم رباعی مذکور قول دوم میں وجہ سے جبہہ مراد لینا چاہیئے کہ موضع سجود ہونے کے سبب اشرف اجزائے وجہ ہے اُوپر گزرا کہ وجہ کو مطلق چھوڑ یں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع