30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
استقبال ہے اور اُس کے مقابل جہتِ استدبار اور باقی دو ربع جہات یمین و شمال بایں صورت ہ مصلی ہے اور ر م کعبہ معظمّہ ، ا ب خط محاذات حقیقیہ ح ء ا س پر عمود ، ان نقاط اربعہ نے تربیع افق کی ،پھر ربع ا ح کو ح اور ربع ا ء کو ط پر تنصیف ، کرکے خط ح ط ملا دیا ، یونہی ط ک=ك ی۔ی ح تو قوس ح ا جہت قبلہ ہے اور ی ب ك جہتِ استدبار، ی ح ح جہتِ یمین ، ك ء ط جہتِ شمال ۔ہ اگر ا کی طرف منہ کرے عین کعبہ کی طرف متوجہ ہے اور روا ہے کہ دہنی جانب ح یا بائیں طرف ط کے قریب تك پھرے جہتِ قبلہ باقی رہے گی ۔

جب قوس ح ا ط سے باہر گیا جہت نہ رہی تو وہی دونوں جانب ٤٥-٤٥ درجے تك انحراف روا ہوا۔یہ قولِ نفیس خود امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ، فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
عن ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی المشرق قبلۃ اھل المغرب والمغرب قبلۃ اھل المشرق والجنوب قبلۃ اھل الشمال و الشمال قبلۃ اھل جنوب١[1]۔ |
امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ مغرب والوں کا قبلہ مشرق ہے اور مشرق والوں کا مغرب ، شمال والوں کا جنوب اور جنوب والوں کا شمال ہے۔(ت) |
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے:
|
قال الزندویسی ان المغرب قبلۃ لاھل المشرق و بالعکس والجنوب لا ھل الشمال وبالعکس فالجھۃ قبلۃ کالعین [2]۔ |
زندویسی نے کہا کہ مشرق والوں کا مغرب قبلہ ہے اور اسکے برعکس ، اور شمال والوں کا جنوب قبلہ ہے اور اسکے برعکس ۔پس جہت بھی عین کعبہ کی طرح قبلہ ہے۔(ت) |
حلیہ میں ہے۔
|
قد قطع الزندویسی فی روضتہ بالتفریع المذکور [3] الخ قالہ بعد ماذکر انہ بناہ علی کون الکعبۃ وسط الارض وتردّد |
زندویسی نے اپنی کتاب"روضہ"میں مذکورہ تفریع پر یقین کا اظہار کیا ہے الخ، انھوں نے یہ بات کعبہ کو وسطِ زمین پر قرار دینے کے بعد کہی اور اس کے اثبات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع