30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: وھذااولی بوجوہ لقولہ فی صدرہ استقبال عین الکعبۃ للمکی وجھتھالغیرہ ان یصل١[1]الخ فافاد انہ الآن بصددبیان التقریبیۃ لاالحقیقۃ الواقعۃ علی العین ولانہ قال بعدہ اونقول ھوان تقع الکعبۃ الی اٰخرما تقدم فی القول الثالث ولاشك انہ للتقریب وظاہر قولہ اونقول ان محصلھما واحد ولان الجبین یکون علی ھذا بمعناہ الحقیقی وکذلك فھم العلامۃ الطحطاوی فصور بیان الدد ھکذ۔
اقول: ولیس المراد حدوث الخطین فی حالۃ واحدۃ حتی یرد علیہ انہ مع حمل الجبین علی طرفی الجبھۃ عدل الی جعلہ لبیان التحقیق حیث اوصل الخطین الی الکعبۃ عمودین وانہ قد علمت مما قد منا ان
|
کر دیا ہے غرضیکہ انہوں نے مراد کی تصریح کردی ہے اور دونوں وجہوں کا ماحاصل انہوں نے ایك ہی قرار دیا۔ اقول: ان کا یہ بیان کئی طرح سے بہتر ہے ایك وجہ تو ماتن کا یہ قول ہے کہ مکّی کےلئے عین کعبہ کا استقبال اور غیر مکّی کےلئے جہت کعبہ کا استقبال ہے الخ۔لہذا وُہ بتارہے ہیں کہ اب سمت تقریبی کو بیان کر رہے ہیں(یعنی وجھتھا لغیرہ الخ) نہ کہ سمتِ حقیقی جس کا وقوع عین کعبہ پر ہے، اور اسلیئے بھی کہ انھوں نے بعد میں یہ کہا"یا ہم یوں کہیں کہ ان تقع الکعبۃ الخ"جیسا کہ تیسرے قول میں گزرا ہے، اس بیان کے بارے میں شك نہیں کہ یہ سمتِ تقریبی سے متعلق ہے، نیز ماتن کا قول"اونقول"ظاہرًا بتا تا ہے کہ دونوں کا ماحاصل ایك ہے اور نیز اس مراد پر جبین کا حقیقی معنی مراد ہوگا۔ علامہ طحطاوی نے اسکو اسی طرح سمجھا اور انہوں نے دُرر کے بیان کے مطابق تصویر یُوں بنائی۔
اقول: علّامہ طحطاوی کے بیان میں ،دونوں خطوں کا ایك شکل پر ہونا ضروری نہیں ، ورنہ یہ اعتراض پیدا ہوگا کہ انہوں نے جبین کا حقیقی معنی یعنی پیشانی کی دونوں طرفیں (پہلو) مراد لینے کے باوجود جبین سے نکلنے والے خطوں کو عین کعبہ پر بصورت عمود(سیدھا) گرا کر سمتِ حقیقی کو بیان کیا ہے حالانکہ ہمارے پہلے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع