30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعاد الی مقامہ الاول ای علی الفرض لم یزل الاستقبال الحقیقی ولم یحصل انحراف ما اصلا و مقصود ھم ان ینبھوا علی جواز الانحراف الیسیر ففرضواالخط کما مروذکرواانہ لایجاوز الجھۃ بالانتقال علیہ الی فراسخ کثیرۃ وقدصدقوا فی ذلك ولم یقدروالفراسخ لانھا تتبدل بتبدل البعد کما تقدم ولو راموا تسویغ الانتقال مطلقا لما قیدو بفراسخ وقالو لایزول بالانتقال کم ما کان قلتم فھذا ماکان یجب التنبہ لہ و باﷲ التوفیق ولیرجمع الی ماکنا فیہ۔ فاقول ثالثا: بقی فی شرحہ عبارۃ الدرر شیئ وھو جعل"علی استقامۃ"متعلقا"بیصل"وانت تعلم انہ کما یجب الاستقامۃ بھذاالمعنی فی الخط الخارج من الجبھۃ کذلك فی الخط المار بالکعبۃ عرضا وعلی جعلہ متعلقا
|
کے فاصلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے دائرۃ بنایا جائے، اور نمازی اس دائرہ پر انتقال کرتا چلاجائے حتٰی کہ ساری دنیا کا چکّر بھی لگائے اور پہلے مقام پر لوٹ آئے تب بھی اس کا استقبال حقیقی باقی رہے گا اور ذرا بھی انحراف نہ ہوگا اور مذکورہ انحراف ذکر سے ان کا مقصد معمولی انحراف کے جواز پر تنبیہ کرنا ہے تو اس لئے انھوں نے مذکورہ خط پر کئی فرسخ تك انتقال کرنے والے کی جہت تبدیل نہ ہوگی اور یہ بات انھوں نے درست فرمائی ، ساتھ ہی اُنھوں نے فرسخ کی تعداد معین نہ فرما کر یہ واضح کیا کہ یہ تعداد کعبہ کے دائرہ والے خط کے بُعد پر موقوف ہے یعنی بُعد کی تبدیلی سے فرسخ کی تعداد بدل جائے گی جیسے کہ گزر چکا ،اور اگر وہ عام ہر طرح کا انتقال مراد لیتے تو پھر بیان میں فراسخ کی قید ذکر نہ کرتے بلکہ یوں کہتے"جتنا تم چاہو انتقال کرو اس سے جہت میں تبدیلی نہ ہوگی"یہ وُہ ہے جس پر تنبیہ ضروری تھی، جبکہ توفیق صرف اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے اب ہمیں اپنی بحث میں واپس لوٹنا چاہیئے۔ فاقول ، ثالثا (نوٹ:)یہ ثالثا اس اولا سے متعلق ہے جو صفحہ ۸۸ پر گزرا) دُرر کی عبارت کی شرح کرتے ہوئے محشی علیہ رحمۃ نے جو فرمایا اس میں ابھی کچھ امرباقی ہے وہ یہ کہ انہوں نے فرمایا کہ دُرر کی عبارت میں"علی استقامۃ"کاتعلق"یصل" کے لفظ سے ہے حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ کعبہ کا استقبال کرنے والے نمازی کی پیشانی سے نکلنے والے خط میں جس معنی میں استقامت ضروری ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع