30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وخمسین میلا اعنی خمس درج و عرضھا کاحہ الط نحو امن عرض مکۃ المکرمۃ علی ماثبت بالقیاسات الجدیدۃ کاحہ الہ فاذن تکون قبلتہ نقطۃ المغرب سواء بسواء کمالا یخفی علی المھندس وذلك لان فی اللوغار ثمیات ظل عرض مکۃ٥٩٣٥٤٢٣ء٩جیب تمام ما بین الطولین ٩٩٨٣٤٤٢ء٩ = ٥٩٥١٥٨١ء ٩ظل عرض موقع العمود الواقع من نقطۃ المغرب علی نصف نھار البلد مارا بسمت راس مکۃ المکرمۃ قوسہ کاحہ الط مساویۃ لعرض البلد فیکون العمود نفسہ دا سمتیۃ مرت سمتی راس البلدومکۃ ثم نقول ظل ما بین الطولین٩٤١٩٥١٨ء٨+جیب تمام عرض موقع العمود ٢٧٦+٩٦ء٩= ٩٦٠٦٧٩٤ء١٨ نجعلہ محفوظا وننتقل علی نصف النھار ھذا یمینا و شمالا مع حفظ الوجہ اعنی بقاء القطب الشمالی علی منکب الایمن فلیکن: اوّلًا موضع علی خط الاستواء فعرض الموقع ھوالفضل بینہ و بین عرض البلد لانتفائہ جیبہ ٥٦٣٧٥٤٦ء٩ ویبقی بتفریقہ من |
اس صورت میں ان کا کلام جامع اور مانع نہ رہے گا، اس کا بیان یہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے مشرق میں واقع ایسا مقام کہ اس کے اور مکہ مکرمہ کے دونوں طولوں میں ساڑھے تین سو میل یعنی پانچ درجے ہو، اور اس مقام کا عرض کاحہ الط مکہ مکرمہ کے عرض جتنا ہوگا جیسا کہ جدید قوانین میں ثابت ہے کہ وہ کاحہ الط ہے ، تو اس صورت میں اس مقام کا قبلہ ٹھیك نقطہ مغرب ہوگا جو کہ ریاضی دان حضرات پر مخفی نہیں، یہ اس لئے کہ لوگارثم میں عرض مکہ مکرمہ کا ظل ٥٩٣٥٤٢٣ء٩ دونوں طولوں میں مکمل جیب ٩٩٨٣٤٤٢ء٩ = ٥٩٥١٥٨١ء٩ ہے نقطہ مغرب سے گرنے والے عمود کے مقام کاظل ، نصف النہار کے وقت عین مکۃ المکرمہ کی سمت پر سے گزرے ، تو اس کا قوس کاحہ الط ہو گا جو عرض بلد کے مساوی ہوگا اس طرح خود عمود ایك دائرہ سمتی ہو گا جور أس البلد اور مکہ مکرمہ کی دونوں سمتوں سے گزرے گا۔ پھر ہم کہیں گے کہ دونوں طولوں کا ظل ٩٤١٩٥١٨ء٨+عمود کے موقع کے تمام عرض کا جیب ٢٧٦+٩٦ء٩ =٩٦٠٦٧٩٤ء١٨ ہے جس کو ہم محفوظ کرلیں گے اور ہم دائیں کندھے پر قطب شمالی کو باقی رکھ کر اپنے جہت کو محفوظ بنا کر اس نصف النہار پر دائیں اور بائیں منتقل ہوں تو: اوّلًا خط استواء پر ایك موضع ہو تو عمود کے وقوع کی جگہ کا عرض منفی ہونے کی وجہ سے اس کے اور عرض البلد کے درمیان زائد ہوگا،جس کا جیب ٨٦٣٧٥٤٦ء٩ہوگا اس کو محفوظ سے تفریق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع