30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لکن وقع فی کلامھم ما یدل علی ان الانحراف لایضرثم[1] نقل کلام القھستانی و شرح العلامۃ الغزی لزاد الفقیرومنیۃ المصلی عن امالی الفتاوٰی والعجب ان نسی مانقل بنفسہ من الدرر فان الذی نقل ھھنا عن القھستانی عین ما قدم عن الدررمن ان الانحراف الیسیرالذی لاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ لا یضر فکیف یکون کلام الدرر مخالفالہ۔ سادسًا: لیس الامرکما فھم بل انحراف وسط جبھۃ المستقبل عن مسامتۃ الکعبۃ لازم الانتقال والخروج عن سطح الجدار الشریف ولوحفظ فی انتقالہ تلك الوجہۃ لاتی علی ما یخرجہ عن الجہۃ بالکلیۃ ولو انحرفا ان تلك وجہۃ انحرافا مناسبا لحفظ التوجہ الی الکعبۃ فکلامہ منقوض طرداوعکسا، ولیکن لبیان ذلك موضع شرقی مکۃ المکرمۃ بین طولیھما نحو من ثلاثمائۃ |
انحراف کرنا مراد ہے لیکن اس کے باوجود فقہاء کی کتب میں ایسا کلام ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انحراف قلیل مضر نہیں ہے، اس پر پھر انہوں نے قہستانی زادالفقیرکی شرح علّامہ غزی اور امالی الفتاوٰی کے حوالہ سے منیۃ المصلی کی عبارات نقل کیں۔ تعجّب ہے کہ علامہ شامی (محشی) رحمۃ اﷲ تعالٰی دُرر سے خود اپنی نقل کردہ بات کو بھول گئے ، کیونکہ اُنھوں نے یہاں قہستانی سے جو یہ نقل کیا ہے کہ ایسا قلیل انحرا ف جس سے کعبہ کا مقابلہ کلیۃً زائل نہ ہو مضر نہیں ہے۔ یہ بعینہٖ وہی چیز ہے جس کو وُہ خود پہلے دُرر سے بیان کر چکے ہیں ، تو دُرر کا کلام قہستانی کے خلاف کیسے ہو گا۔ سادسًا یہ کہ معاملہ وُہ نہیں جیسا کہ انہوں نے سمجھا بلکہ کعبہ کا استقبال کرنے والے کی وسط پیشانی کا سمتِ کعبہ سے انحراف دائیں بائیں انتقال اور کعبہ کی دیوار کی سطح سے خروج کو لازم ہے، اب اگر محشی رحمۃ علیہ نمازی کے دائیں بائیں انتقال میں اس زاویۃ قائمہ والی توجہ پر قائم رہتے ہیں تو اس صورت میں ان سے نمازی کو جہتِ کعبہ سے بالکلیہ خارج کردینے والی بات صادر ہو رہی ہے، اوراگر وہ منتقل ہونے والے کے لئے (اس قائمہ والی بات) سے انحراف کرکے کعبہ کی طرف توجہ کی حفاظت کے لئے (منتقل ہونے والے کعبہ کی طرف) انحراف مراد لیں تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع