30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من التیامن والتیاسر فلیس فیہ ایض اثر من ذلك ولا ھو یستلزم الانتقال بل و لا یحصلان لك بالانحراف عن المحاذات وانت قائم مقامك وبہ عبر فی الدررحیث قال فیعلم منہ انہ لو انحرف عن العین انحرافا[1] الخ۔ و ثانیًا : المعراج وکل من ذکرنا من متابعیہ انما فرضوا خطا من جبین مستقبل العین ماراالی الکعبۃ واٰخر قاطعالہ علی قائمتین ثم فرضوا الانتقال یمینا ویسارا بفراسخ کثیرۃ علی ھذا القاطع ولم یشرط ھو ولا احد منھم حدوث القائمتین بعد الانتقال۔ وثالثًا: لو شرط ذلك لم یصح لان الانتقال لا یمکن علی خط مستقیم فان القاطع انما یمر فی جانبی المستقبل بعد موضع قدمہ فی الھواء لکون الارض کرۃ وانما ینتقل المنتقل علی دائرۃ فھوان حفظ توجھہ حین استقبالہ عین الکعبۃ وانتقل علی تلك الدائرۃ یمینًا وشمالًا فلا شك ان الخط الخارج من جبھتہ |
کے طور دائیں اور بائیں ہونے کا جو ذکر کیا ہے اس میں بھی اس کا کوئی نشان نہیں اور نہ ہی وہ انتقال کو مستلزم ہے بلکہ جب تو اپنی جگہ کھڑا رہ کرمحاذات سے انحراف بھی کرے تب بھی دو قائمے حاصل نہیں ہوسکتے ۔ اسی بات کو دُرر نے تعبیر کرتے ہوئے کہا ـ"پس اس سے معلوم ہوا کہ عین کعبہ سے کچھ انحراف کرے۔الخ ثانیًا یہ کہ معراج اور اس کے مذکورہ متبعین حضرات نے عین کعبہ کا استقبال کرنے والے کی جبین سے خط نکل کر کعبہ کی طرف جائے اور دوسراخط جو اس کو دو قائموں زاویوں پر قطع کرنے کو ذکر کیا ہے اور پھر ان لوگوں نے اس قاطع خط پر دائیں بائیں کئی فرسخ تك انتقال کو فرض کیا ہے، اس کے باوجود معراج اور اس کے متبعین نے انتقال کے بعد ٢دو قائمہ زاویوں کی شرط نہیں لگائی۔ ثالثًا یہ کہ اگر یہ شرط لگائی جائے تو درست نہیں ہوگی کیونکہ انتقال خط مستقیم پر ممکن نہیں ہے اس لئے کہ قطع کرنے والا خط کعبہ کا استقبال کرنے والے کے دائیں اور بائیں دونوں طرف فضا میں ایك قدم کے فاصلہ سے گزرے گا کیونکہ زمین کروی یعنی گول ہے اور انتقال کرنے والا صرف ایك دائرہ پر انتقال کرے گا ، اب اگر وہ عین کعبہ کا استقبال کرتے ہوئے اپنی جہت کو محفوظ رکھتے ہوئے اس دائرہ پر دائیں یا بائیں انتقال کرے تو یقینااس کی پیشانی سے نکلنے والا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع