دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

الجواب :

۱۶ شعبان کو یہ سوال آیا تھا جواب دیا گیا کہ اگر چبوترہ کی مٹّی میں نجاست کی آمیزش نہیں یا زمین ہی کھود کر اُن نجاستوں سے پاك کردی گئی تو کوئی مضائقہ نہیں اب سوال میں اظہار ہے کہ اس میں مشرکوں کی ہڈیاں تك نظر آتی ہیں ایسی حالت میں اُس پر نماز پڑھنا ہی حرام ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۲۰) از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گونا باور ریلوے ڈاك خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب محرر منشی محمد امین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور۴ رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ

بخدمت فیض درجت جناب مولانا ومرشد نامولوی احمد رضا خان صاحب دام اقبالہ بعد السلام علیك واضح رائے شریف ہوکہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظرتوجہ بزرگانہ جواب سے معزّز فرمایا جاؤں ، اوّل۱ یہ کہ جس مکان میں کوئی شخص شراب پئے اس میں نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔ دوسرے۲ یہ کہ جائے نماز برابر کسی شخص کی چارپائی کے بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں اُس صورت میں کہ اُس چارپائی پر وہ شخص سوتا ہو یا بیٹھا۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

مکرمی السّلام علیکم ورحمۃ الله  وبرکاتہ ، اگر وہ شخص وہاں اُس وقت شراب پینے میں مشغول نہیں ، نہ وہاں شراب کی نجاست ہے تو ایسے وقت وہاں نماز پڑھ لینے میں حرج نہیں اور اگر بالفعل وہ شخص شراب پی رہا ہے تو بلاضرورت وہاں نماز نہ پڑھے کہ شراب خور پر بحکم احادیث صحیحہ لعنتِ الٰہی اُترتی ہے اور محلِ نزولِ لعنت میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اس لئے سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے قومِ ثمود کی جائے ہلاك میں نماز نہ پڑھی کہ وہاں عذاب نازل ہُوا تھا نیز شراب پیتے وقت شیطان حاضر اور اس کا غلبہ واستیلا ظاہر ہے اور محل غلبہ شیطان میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اسی لئے حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے شبِ تعریس جب نمازِ فجر سوتے میں قضا ہُوئی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو حکم فرمایا کہ نماز آگے چل کر پڑھو کہ یہاں تمہارے پاس شیطان حاضر ہوا تھا حالانکہ وہ فوت قصدی نہ تھاسوتے سے آنکھ بحکمتِ الٰہی نہ کھلی تھی اور اگر وہ مکان ہی شراب خوری کا ہوکہ فسّاق فجّار اپنایہ مجمع ناجائز وہاں کیا کرتے ہوں جب تو بدرجہ اولٰی وہاں نماز مکروہ ہے کہ اب وہ مکان حمام سے زیادہ مرجع وماوائے شیاطین ہے اور علماء نے حمام میں کراہت نماز کی یہ وجہ ارشاد فرمائی کہ وہ شیطان کا ماوٰی ہے کمافی ردالمحتار وغیرہ۔ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

(۲) اگر کوئی شخص چارپائی پر بیٹھا خواہ لیٹا ہے اور اس طرف اس کی پیٹھ ہے تو اس کے پیچھے جانماز بچھا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ، اسی طرح اگر اُس طرف پیٹھ کیے سورہا ہے جب بھی مضائقہ نہیں ، مگر سوتے کے پیچھے پڑھنے سے احتراز مناسب ہے دو۲ وجہ سے ، ایك یہ کہ کیا معلوم اس کے نماز پڑھنے میں وہ اس طرف کروٹ لے اور ادھر اس کا مُنہ ہوجائے ، دوسرے محتمل ہے کہ سوتے میں اس سے کوئی ایسی شے صادر ہو جس سے نماز میں اسے ہنسی آجانے کا اندیشہ ہو المسألۃ فی ردالمحتار عن الغنیۃ والوجہ الاول مما زدتہ (یہ مسئلہ درمختار میں غنیہ سے منقول ہے اور پہلی وجہ کا میں نے اضافہ کیا ہے) (ت) والله سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۲۱) از موضع منڈنپور تھانہ ڈاکخانہ میر گنج ضلع بریلی مرسلہ غلام ربانی صاحب زمیندار یکم ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جنگل میں ہے اور نماز کا وقت ہوگیا تو کھیت یا بنجر ملکیت غیر میں نماز پڑھ لے تو نماز ہوگی یا نہیں اور ٹانڈ پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ فقط۔

الجواب :

دوسرے کی کھیتی میں نماز پڑھنا ممنوع ہے بے اس کی اجازت صریح کے گنہگار ہوگا مگر نماز ادا ہوجائیگی اور بنجر میں پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں ، یونہی وہ کھیت جس میں کھیتی نہ ہو۔ ٹانڈ پر نماز نہیں ہوسکتی مگر اس حالت میں کہ وہ مثل تخت کے ہو مثلًا لکڑیاں باندھ کر اُن پر تخت رکھ لیے ہوں یاخود تخت ہی باندھ لیا ہو یا ایسا سخت بُنا ہوا ہوکہ سجدہ میں سر ٹھہر جائے زور کرنے سے زیادہ نیچا نہ جھُکے ، وھو تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۲۲)از مین پوری مکان مولوی محمد حسن صاحب وکیل مرسلہ شیخ انوارالحسن صاحب ابن مولوی صاحب مذکور۱۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چارپائی پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟اوریہ جو مشہورہے کہ اگلی اُمتوں میں کچھ لوگ چارپائی پرنمازپڑھنے کے سبب بندرہوگئے یہ بات ثابت ہے یا نہیں ، بینوا توجروا۔

الجواب :

اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہوکہ سجدہ میں سر اُس پر مستقر ہوجائے یعنی اُس کادبنا ایك حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے خواہ وہ چارپائی ہو یا زمین پر رکھا ہوا گاڑی کا کھٹولا یا کوئی شے ، اور یہ جو جاہلوں میں بلکہ عورتوں میں مشہور ہے کہ اگلی اُمتوں میں کچھ لوگ چارپائی پر نماز پڑھنے سے مسخ ہوگئے محض غلط وباطل ہے۔ علّامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :

ضابطہ ان لایتسفل بالتسفیل ، فحینئذ جاز سجودہ علیہ[1]۔

اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر دبانے سے نیچے نہ دبے تو اس پر سجدہ جائز ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

تفسیرہ ، ان المساجد لوبالغ لایتسفل رأسہ ابلغ من ذلک ، فصح علی طنفسۃ وحصیر وحنطۃ وشعیر وسریر وعجلۃ انکانت علی الارض[2]۔

اس کی تشریح یہ ہے کہ سجدہ کرنے والا اگر سر کو مزید نیچے کرنا چاہے تو نہ کرسکے ، اس لئے دبیز کپڑے پر ، پھُوڑی پر ، گندم پر ، جَوپر ، تخت پر اور گاڑی پر اگر وہ زمین پر کھڑی ہوتو سجدہ صحیح ہے۔ (ت)

نظر کیجئے تو یہ خاص مسئلہ کا جزیہ ہے زبانِ عرب میں سریر تخت وچارپائی دونوں کو شامل ہے کمالایخفی علی من طالع الاحادیث الخ۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۲۳) از خیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ جناب سید فخرالحسن صاحب نبیرہ مولوی نبی بخش صاحب مرحوم مفتی خیرآباد۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اندرین مسائل :

(۱) حضرت شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی علیہ الرحمۃ نے تحت حدیث شریف الارض کلھا مسجد الا المقبرۃ اھ تحریر فرمایا ہے :

امّا مقبرہ ازجہت آنکہ غالب دروے قذرات واختلاط تربت اوست بانچہ جدامیگرددازمردہاازنجاست واگر مکان طاہر ونظیف باشد پس ہیچ باکے نیست وکراہتے نہ وبعض برانندکہ نمازدرمقبرہ مکروہ است مطلقا ازجہت ظاہر ایں حدیث[3]۔           

قبرستان میں نماز اس وجہ سے مکروہ ہے کہ عام طور پر وہاں گندگی ہوتی ہے اور اس کی مٹی مُردوں سے برآمد ہونے والی نجاستوں سے مخلوط ہوتی ہے اور اگر جگہ پاك اور سُتھری ہوتو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، نہ اس میں کوئی کراہت ہے۔ اور بعض کی رائے یہ ہے کہ قبرستان میں بہر صورت نماز پڑھنی منع ہے اس حدیث کی بنا پر۔ (ت)

 



[1]   غنیۃ المستملی الخامس من فرائض الصلوٰۃ السجدۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۸۹

[2]   ردالمحتار فصل فی تالیف الصلوٰۃ الٰی انتہائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۷۰

[3]   اشعۃ اللمعات باب المساجد الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن