دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اور درمختار میں ہے کہ مرد کے لئے مستحب یہ ہے کہ صبح کی نماز شروع بھی تنویر میں کرے اور ختم بھی تنویر میں کرے۔ یہی مختار ہے ، اس طرح کہ اس میں چالیس۴۰ آیتیں ترتیل سے پڑھے اور بعد میں اگر فاسد ہونے کا پتہ چلے تو وضو کرکے لوٹا سکے ، اور بعض نے کہا ہے کہ بہت مؤخر کرے کیونکہ ایسا فاسد ہونا موہوم ہے ، البتہ مزدلفہ میں حاجی کہلئے تغلیس بہتر ہے جیسا کہ عورت کے لئے ہر جگہ تغلیس بہتر ہے۔ (ت)

اُس شخص کا اول وقت اندھیرے میں نماز پڑھنا سنت کی مخالفت کرنا ہے اور اُن کو اس کی تاکید کرنی مخالف سنّت کی طرف بلانا ہے اور یہ کہنا کہ روشنی میں نماز مکروہ ہوتی ہے سنّت کو مکروہ کہنا اور شریعت مطہرہ پر بہتان اٹھانا ہے ، الله  تعالٰی ہدایت دے۔ والله تعالٰی اعلم

مسئلہ (۳۱۶) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت مستحب ظہر کا گرما میں کیا ہے اور جو شخص موسم مذکور میں بعد زوال اوّل وقت نمازِ ظہر پڑھے اور لوگوں کو بھی تاکید کرے کہ وقت اولٰی یہی ہے ، آیا وہ شخص حق پر ہے یا ناحق پر ، بینوا توجروا۔

الجواب :

موسم گرما میں ظہر کا ابراد کرکے پڑھنا مستحب ہے تمام کتب حنفیہ میں یہ معنی مصرح ہے اور اوّل وقت میں پڑھنا رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے حکمِ اقدس سے عدول۔ حضور فرماتے ہیں :

اذا اشتد الحر فابردوا بالظھر ، فان شدّۃ الحرّ من فیح جھنم [1]۔ متفق علیہ۔

جب گرمی سخت ہوتو ظہر کو ٹھنڈا کروکہ شدّتِ گرمی وسعت دم دوزخ سے ہے۔

اور بخاری ونسائی انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی واللفظ للنسائی قال :

کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاکان الحرابرد الصلاۃ واذاکان البرد عجل [2]۔

رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب گرمی ہو تی تو نماز ٹھنڈی کرتے اور جب سردی ہوتی تعجیل فرماتے۔

اور بخاری مسلم ابوداود ابن ماجہ نے سیدنا ابی ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ، قال :

اذن مؤذن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الظہر ، فقال : ابرد ، ابرد ، اوقال : انتظر ، انتظر ، وقال : شدّۃالحرّمن فیح جہنّم ، فاذااشتدالحر فا بردواعن الصلاۃ۔ حتی رأینا فیئ التلول[3]۔

یعنی مؤذنِ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اذانِ ظہر دی ، رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ٹھنڈا کر ، ٹھنڈا کر ، یا فرمایا : انتظار کر ، انتظار کر ، اور فرمایا ، سختی گرما جہنم کی وسعت نفس سے ہے تو جب گرمی زائد ہو نماز ٹھنڈی کرو ، یہاں تك کہ ہم نے دیکھا ٹیلوں کا سایہ۔

دوسرے طریق میں ہے :

کنامع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی السفرفارادالمؤذن ان یؤذن الظھر فقال النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ابرد ثم اراد ان یؤذن فقال لہ ابرد حتی رأینا فیئ التلول [4]الحدیث۔

ہم نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ سفر میں تھے مؤذن نے اذان کا ارادہ کیا کہ ظہر کی اذان دے حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ٹھنڈاکر پھر چاہا کہ اذان دے پھر فرمایا : ٹھنڈا کر ، یہاں تك کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔

اور مسلم میں ابراہیم کے طریق میں شعبہ سے مؤذن کا تین بار ارادہ اور حضور کا یہی حکم فرمانا وارد ہوا قلت ومسلم ثقۃ فزیادتہ مقبولۃ (میں نے کہا مسلم ثقہ ہے اس لئے اس کا اضافہ مقبول ہے۔ ت)

اقول : اب یہاں سے مبالغہ تاخیر کا اندازہ کرنا چاہئے کہ مؤذن نے تین بار اذان کا ارادہ کیا اور ہر دفعہ ابراد کا حکم ہوا اور یقینا معلوم ہے کہ ہر دوا ارادوں میں اس قدر فاصلہ ضرور تھا جس کو ابراد کہہ سکییں اور وہ وقت بہ نسبت پہلے وقت کے ٹھنڈا ہو ورنہ لازم آئے کہ سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تعمیلِ حکم نہ کی اور جب اذان میں یہ تاخیر ہوئی تو نماز تو اور بھی دیر میں ہوئی ہوگی۔ علما فرماتے ہیں ٹیلے غالبًا بسیط اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ اُن کا سایہ دوپہر کے بہت دیر بعد ظاہر ہوتابخلاف اشیائے مستطیلہ مانند منار ودیوار وغیرہما ، امام ہمام احمد بن محمد خطیب قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں : ٹیلوں کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا مگر جب اکثر وقت ظہر کا جاتا رہے ابوداؤد ونسائی حضرت عبدالله  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں

قال : کان قدر صلاۃ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الظھر فی الصیف ، ثلثۃ اقدام الی خمسۃ اقدام [5]۔

گرمی میں نماز حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی مقدار تین قدم سے پانچ قدم تك تھے۔

 یعنی جب سایہ ہر چیز کا اس کے ساتویں حصّہ کے تین یا پانچ مثل ہوجاتا تو حضور پُرنور نماز ادا فرماتے اور معلوم ہے کہ حرمین شریفین زادہما الله  تعالٰی شرفًا میں گرمی کے موسم میں اس قدر سایہ نہایت دیر میں واقع ہوگا کہ وہاں سایہ اصلی اس موسم میں نہایت قلت پر ہوتا ہے بعض اوقات میں دو۲ انگل سے زائد نہیں پڑتا اور مکہ معظمہ میں تو بعض اوقات یعنی آفتاب سمت الراس پر گزرے مطلقًا نہیں ہوتا ، یہ بات وہاں اُس وقت ہوتی ہے جب آفتاب ہشتم جوزا یابست ودوم سرطان پر ہو یعنی ۳۰ مئی اور ۲۴ جولائی ،

اخرج ابوداود والترمذی عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما قال قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم :  امنی جبریل عندالبیت مرتین ، فصلی بی الظھر حین زالت الشمس وکانت قدر الشراك[6] ، الحدیث۔ وفی البحرالرائق عن المبسوط ، واعلم ان لکل شیئ ظلا وقت الزوال الابمکۃ  والمدینۃ فی اطول ایام السنۃ ، لان الشمس فیھا تاخذ الحیطان الاربعۃ [7] اھ

اقول :  وکانہ رحمہ اللّٰہ ، اطلق العدم واراد القلۃ ، والا فالمدینۃ الطیبۃ عرضھا “ الہ حہ “ زائد ا علی المیل کلی بدرجۃ وثلث وثلثین دقیقۃ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن