30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مااجتمع اصحاب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی شیئ ، کما اجتمعوا علی التنویر [1]۔
اصحابِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایسا کسی بات پر اتفاق نہ کیا جیسا تنویر واسفار پر۔
حدیث صحیحین سے ثابت کہ نمازِ فجر اوّل وقت پڑھنا سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی عادت شریفہ کے خلاف تھا حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مزدلفہ میں حضور کے مغرب کو بوقتِ عشا اور فجر کو اول وقت پڑھنے کی نسبت فرمایا : ان ھاتین الصلاتین حولتا عن وقتیھا فی ھذا المکان [2](یعنی یہ دونوں نمازیں اپنے وقت سے پھیر دی گئیں اس مکان میں )بخاری ومسلم کی دُوسری روایت میں ہے : صلی الفجر قبل وقتھا بغلس [3] صبح کی نماز پڑھی قبل اس کے وقت کے تاریکی میں اور قبل وقت سے قبل ازطلوع فجر مراد نہیں کہ یہ خلاف اجماع ہے معہذا حدیث بخاری سے ثابت کہ فجر طالع ہوچکی تھی تو بالضرور قبل ازوقت معہود مقصود ہے وہوالمطلوب ، سیدنا عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہ اس حدیث کے راوی ہیں حضروسفر میں ملازمت والا سے مشرف رہتے یہاں تك کہ لوگ انہیں اہل بیت نبوت سے گمان کرتے اور ان کے لئے استیذان معاف تھا کل ذلك ثابت بالاحادیث (یہ سب احادیث سے ثابت ہے۔ ت) تو اُن کا یہ فرمانا کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو نہ دیکھا کہ کسی نماز کو غیر وقت پر پڑھا ہو سوا اِن دو۲ نمازوں کے ، اس مضمون کا مؤکد ومؤید ہے اور حکمت فقہی اس باب میں یہ ہے کہ اسفار میں تکثیر جماعت ہے جو شارع کو مطلوب ومحبوب اور تغلیس میں تقلیل اور لوگوں کو مشقت میں ڈالنا اور یہ دونوں ناپسند ومکروہ ، اسی لئے امام کو تخفیف صلاۃ اور کبیر وضعیف ومریض حاجتمند کی مراعات کا حکم فرمایا سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جماعت میں قرأت طویل پڑھی لوگ شاکی ہُوئے ، ارشاد ہوا :
یامعاذا افتان انت؟ یامعاذ! افتان انت؟ قالہ ثلثا [4] اھ۔
اے معاذ! کیا تم ، لوگوں کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہو؟ یہ بات آپ نے تین دفعہ کہی۔ (ت)
اور اوّل وقت نماز کی افضلیت اگر مطلقا تسلیم کربھی لی جائے تاہم دفع مفاسد جلب مصالح سے اہم واقدم ہے آخر نہ دیکھا کہ تطویل قرأت پر عتاب ہوا حالانکہ قرآن جس قدر بھی پڑھا جائے احسن وافضل ہی ہے معہذا نماز فجر کے بعد تابا شراق ذکرِ الٰہی میں بیٹھا رہنا مستحب ہے اور یہ امر اسفار میں آسان اور تغلیس کے ساتھ دشوار ، اب رہا یہ کہ حد اسفار کی کیا ہے ، بدائع وسراج وہاج سے ثابت کہ وقت فجر کے دو۲ حصے کئے جائیں حصّہ اوّل تغلیس اور آخر میں اسفار ہے۔ اور امام حلوائی وقاضی امام ابوعلی نسفی وغیرہما عامہ مشائخ فرماتے ہیں کہ ایسے وقت شروع کرے کہ نماز بقرأت مسنونہ ترتیل واطمینان کے ساتھ پڑھ لے بعدہ نسیان حدث پر متنبہ ہوتو وضو کرکے پھر اُسی طرح پڑھ سکے اور ہنوز آفتاب طلوع نہ کرے ، بعض کہتے ہیں کہ نہایت تاخیر چاہئے کہ فساد موہوم ہے اور اسفار مستحب ، مستحب کو موہوم کہلئے نہ چھوڑیں گے مگر ایسے وقت تك تاخیر کہ طلوع کا اندیشہ ہوجائے بالاجماع مکروہ ،
ففی غنیۃ المستملی للعلامۃ الحلبی اثرا عن البدائع ، وحدہ (یعنی التغلیس) مادام فی النصف الاول من الوقت۔ وفیھا ، عن الفتاوی الخانیۃ ، وحد التنویر ماقال شمس الائمۃ الحلوائی والقاضی الامام ابوعلی النسفی : انہ یبدأ الصلوۃ بعد انتشار البیاض فی وقت لوصلی الفجر بقرأۃ مسنونۃ مابین اربعین اٰیۃ الٰی ستین اٰیۃ ، ویرتل القرأۃ ، فاذا فرغ من الصلاۃ ، ثم ظھرلہ سھو فی طھارتہ ، ہمکنہ ان یتوضأ ویعید الصلاۃ قبل طلوع الشمس۔ کما فعل ابوبکر وعمر رضی الله تعالٰی عنہما۔ وعلی ھذا ، مافی محیط رضی الدین والخلاصۃ والکافی وغیرھا[5]؛ انتھٰی
قلت : ومثلہ فی فتاوی قاضی خان ، ونحوہ فی الفتاوی العالمگیریۃ عن التبیین۔ وقیل : یؤخرھا جدا ، لان الفساد موھوم فلم یترك المستحب لاجلہ۔ وقیل : حدہ ان یری مواضع النبل۔ ثم کمافی محیط رضی الدین وغیرہ ، لایؤخرھا تاخیرا یقع الشك فی طلوع الشمس [6]۔ انتھٰی ملخصًا۔ وفی البحرالرائق ، قالوا : یسفربھا بحیث لوظھر فساد صلاتہ ہمکنہ ان یعیدھا فی الوقت ، بقرأۃ مستحبۃ۔ وقیل : یؤخرھا جدا ، لان الفساد موھوم فلایترك المستحب لاجلہ۔ وھوظاھر اطلاق الکتاب (یعنی الکنز ، حیث قال : وندب تاخیر الفجر ، ولم یقید بشیئ) لکن لایؤخرھا بحیث یقع الشك فی طلوع الشمس۔ وفی السراج الوھاج : حدالاسفار ان یصلی فی النصف الثانی ، ولایخفی ان الحاج بمزدلفۃ لایؤخرھا۔ وفی المبتغی ، بالغین المعجمۃ ، الافضل للمرأۃ فی الفجر الغلس ، وفی غیرھا الانتظار الی فراغ الرجال عن الجماعۃ[7]۔ انتھی مافی البحر۔ وفی الدرالمختار : والمستحب للرجل الابتداء فی الفجر باسفار والختم بہ ، ھوالمختار ، بحیث یرتل اربعین اٰیۃ ثم یعیدہ بطھارۃ لوفسد۔ وقیل : یؤخرجدا ، لان الفساد موھوم ، الالحاج بمزدلفۃ ، فالتغلیس افضل ، کمرأۃ مطلقا[8]۔
غنیۃ المستملی میں علّامہ حلبی نے بدائع سے یہ اثر نقل کیا ہے کہ اس کی مقدار (یعنی تغلیس کی) یہ ہے کہ وقتِ فجر کے پہلے نصف تک۔ اسی میں فتاوٰی خانیہ سے منقول ہے کہ شمس الائمہ حلوائی اور قاضی امام ابوعلی نسفی کے بقول تنویر کی مقدار یہ ہے کہ نماز سفیدی پھیلنے کے بعد اس وقت شروع کرے کہ اگر فجر کی نماز قرأۃ مسنونہ سے پڑھے ، اور جب نماز سے فارغ ہو تو یاد آئے کہ طہارت میں سہو ہوگیا تھا تو (اتنا وقت باقی ہوکہ) وضو کرکے طلوع سے پہلے دوبارہ نماز پڑھ سکے ، جیسا کہ ابوبکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کیا تھا۔ محیط رضی الدین ، خلاصہ اور کافی وغیرہ میں بھی اسی کے مطابق ہے۔ انتہٰی۔
میں نے کہا ، اسی کے مطابق فتاوٰی قاضی خان میں بھی ہے اور عالمگیری میں بھی تبیین سے منقول ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ (نماز فجر میں ) بہت زیادہ تاخیر کرے کیونکہ (نماز کے بعد طہارت میں غلطی رہ جانے کا خیال آنا اور اس طرح) نماز کا فاسد ہونا ، محض فرضی صورت ہے ،
اس لئے اس کی وجہ سے مستحب (تنویر) کو نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اتنی تنویر ہونی چاہئے کہ تیر گرنے کی جگہ نظر آسکے۔ پھر جیسا کہ محیط وغیرہ میں ہے۔ یہ خیال رکھے اتنی تاخیر نہ ہونے پائے کہ سورج طلوع ہونے کا شك ہونے لگے۔ انتہٰی ملخصا۔ اور بحرالرائق میں ہے علماء نے کہا ہے کہ اتنی تنویر کرے کہ اگر (نماز کے بعد) نماز کے فاسد ہونے کا پتہ چلے تو قرأتِ مستحبہ کے ساتھ اسی وقت میں لوٹا سکے۔ اور بعض نے کہا کہ بہت تاخیر کرے کیونکہ (اس طرح نماز کا) فاسد ہونا ایك مفروضہ ہے ، اس کی وجہ سے مستحب کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ کتاب کے اطلاق سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے (کتاب سے مراد کنز ہے ، کیونکہ اس نے کہا ہے کہ فجر کی تاخیر مستحب ہے اور کوئی قید نہیں لگائی) لیکن اتنی تاخیر بہرحال نہ کرے کہ سورج چڑھ جانے کا شك ہونے لگے۔ اور السراج الوہاج میں ہے کہ تنویر کی مقدار یہ ہے کہ وقت کے نصف ثانی میں پڑھے ، لیکن واضح رہے کہ مزدلفہ میں حاجی تاخیر نہ کرے۔ اور مبتغٰی میں ہے کہ عورت کے لئے صبح میں تغلیس بہتر ہے ، اور دیگر نمازوں میں لوگوں کے جماعت سے فارغ ہونے تك انتظار بہتر ہے۔ انتہی مافی البحر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع