30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ان تؤخر صلاۃ حتی یدخل وقت صلاۃ اخری[1]۔
سونے میں کچھ تقصیر نہیں تقصیر تو جاگنے میں ہے کہ تو ایك نماز کو اتنا مؤخر کرے کہ دوسرے نماز کا وقت آجائے۔
یہ حدیث خود حالتِ سفر میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمائی تھی رواہ مسلم واحمد وابوداود والطحاوی وابن حبان عن ابی قتادۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسیدنا عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہ سفر وحضر میں حاضر بارگاہِ رسالت پناہ ہمرکاب نبوت مآب رہا کرتے صاف صریح انکار فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو کبھی دو۲ نمازیں جمع فرماتے نہ دیکھا مگر مزدلفہ عرفات میں جہاں کی جمع ہنگام حج حجاب کے لئے سب کے نزدیك متفق علیہ ہے نویں تاریخ عرفات میں ظہر وعصر پھر نویں شب مزدلفہ میں مغرب وعشا ملاکر پڑھتے ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وشرح معانی الاثار امام طحاوی میں اُس جناب سے ہے : قال مارأیت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلاتین جمع بین المغرب والعشاء وصلی الفجر قبل میقاتھا [2]۔ وفی لفظ للنسائی کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یصلی الصلاۃ لوقتھا الابجمع وعرفات [3]۔ سیدنا امام محمد مؤطا شریف میں بسند صحیح امیرالمومنین عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی : انہ کتب فی الافاق ینھاھم ان یجمعوا بین الصلاتین ویخبرھم ان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر [4](یعنی اُس جناب خلافت مآب ناطق بالحق والصواب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تمام آفاق میں فرمان تحریر فرما بھیجے کہ کوئی شخص دو۲ نمازیں جمع نہ کرے اور اُن میں ارشاد فرمایا کہ ایك وقت میں دو۲ نمازیں ملانا کبیرہ گناہوں سے ایك گناہ کبیرہ ہے)مخالفین کے پاس جمع حقیقی پر قرآن وحدیث سے اصلًا کوئی دلیل نہیں جو کچھ پیش کرتے ہیں یا تو جمع صوری صریح ہے یعنی ظہر یا مغرب کو اُس کے ایسے آخر وقت میں پڑھنا کہ فارغ ہوتے ہی فورًا یا ایك وقفہ قلیل کے بعد عصر یا عشا کا وقت آجائے پھر وقت ہوتے ہی معًا عصر یا عشا کا پڑھ لینا کہ حقیقت میں تو ہر نماز اپنے وقت پر ہُوئی مگر دیکھنے میں مل گئیں ایسی جمع مریض ومسافر کے لئے ہم بھی جائز مانتے ہیں اور حدیثوں سے یہی ثابت ہے یا محض مجمل ہے جس میں جمع حقیقی کی اصلًا بُو نہیں یا صاف محتمل کہ احادیث جمع صوری سے بہت اچھے طور پر متفق ہوسکتی ہے غرض کوئی حدیث صحیح وصریح مفسر اُن کے ہاتھ میں اصلا نہیں بعونہٖ تعالٰی اس کا نہایت شافی ووافی بیان فقیر نے رسالہ حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین ۳۱۳اھ میں لکھا کہ اس سوال کے آنے پر تحریر کیا جسے تحقیق حق منظور ہو اس کی طرف رجوع کرے وبالله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۴) مرسلہ جناب مولانا مولوی شاہ عبدالغفار صاحب قادری قدوسی مدرس اول مدرسہ جامع العلوم معکسر بنگلور
مولٰنا المولوی جناب مولوی احمد رضا خان صاحب قادری الحنفی البرکاتی البریلوی ادام برکاتکم والطافکم السلام علیکم وعلٰی من لدیکم حضرت قاضی مفتی ارتضا علی خاں صاحب جو وقت اخراج کے اس طور سے کہ پہلے ایك تختہ اصطر لاب اپنے سامنے رکھے تھے اور دودائرہ ہندیہ پتھّر پر تیار کرکے اصطر لاب پر شاقول پھرائے اور دائرہ ہندیہ پر نظر کرکے ایسا ایك ہی کامل محنت کرکے یہ رسالہ لکھے ہیں آپ اس سے عرض کرتا ہوں کہ مدراس تیرہ۱۳ درجہ پر واقع ہے اور یہ معکسر بنگلور دوسوسترہ میل پر ساڑھے سترہ درجہ پر ہے ہم اس حساب سے ۵ لحظہ بڑھ کر لیتے ہیں اس رسالہ میں جو ۱۵ لحظہ دیری کرنا لکھے ہیں حاجت نہیں ریلوے حساب سے مدراس اور یہاں دو۲ لحظہ ہی کا فرق ہے اگر ۵ لحظہ تاخیر کریں تو کافی رہا آپ کا بریلی شہر اس حساب کے موافق ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اغلبًا شاید چودہ۱۴ درجہ پر ہے ، بینوا توجروا۔
الجواب :
السّلامُ علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ، اختلاف اوقات بہ تقدم وتاخر تو ضرور تبدیل طول بلد سے ہوجاتا ہے مگر وہ وجہ تغیر حساب نہیں مثلًا جس بلد میں طلوع شمس کسی جز میں سات بجے پر ہوتو اس عرض کے جتنے بلاد وآفاق ہیں سب میں طلوع شمس جز مذکور میں سات۷ ہی بجے ہوگا بلاتفاوت اگرچہ بلد شرقی میں سات پہلے بجیں گے اور غربی میں بعد ہاں اختلاف عرض موجب تزاید وتناقض وتغیر حساب ہوتا ہے کہ اس کے باعث تعدیل النہار ومطالع البروج وقوس النہار وقوس اللیل وغایت ارتفاع وغایت انحفاض وغیرہا امور جن پر ابتنائے حساب اوقات ہے متبدل ہوجاتے ہیں مدراس بنگلور کے عرض میں ایسا تفاوت نہیں کہ تغیر معتدبہ دے ، مدراس تیرہ۱۳ درجے ۵ دقیقہ ہے اور بنگلور جہاں تك مجھے مراجعت اطالس سے معلوم ہوا ہے علی قول بارہ۱۲ درجے اُنسٹھ۵۹ دقیقہ اور علی قول آخر ۱۲ درجے ۵۵ دقیقے پر ہے۔ یہ چھ۶ یا دس۱۰ دقیقے کا تفاوت چنداں مغیر اوقات نہ ہوگا ، پانچ دقیقہ ساعت جو آپ نے مقرر فرمائے کثیر ہیں بریلی کا عرض ۲۸ درجے ۲۱ دقیقے ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت فجر کا کس وقت سے شروع ہوتا ہے اور کب تك رہتا ہے اور جو شخص نہایت اندھیرے میں اول وقت نمازِ فجر پڑھے اور لوگوں کو اُسی وقت پڑھنے کی تاکید کرے اور کہے بعد روشنی کے نماز مکروہ ہوتی ہے وہ شخص سچّا ہے یا نہیں اور وہ نماز اُس کی مستحب وقت پر ہوئی یا نہیں ، اور مستحب وقت اس نماز کا کیا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
وقت نماز فجر کا طلوع یا انتشار صبح صادق سے ہے علی اختلاف المشائخ اور انتہا اس کی طلوع اول کنارہ شمس ہے اور ہمارے علماء کے نزدیك مردوں کو دوامًا ہر زمان وہر مکان میں اسفارِ فجر یعنی جب صبح خوب روشن ہوجائے نماز پڑھنا سنّت ہے سوا یوم الخر کے کہ حجاج کو اُس روز مزدلفہ میں تغلیس چاہئے صرح بہ فی عامۃ کتبھم (فقہا کی عامہ کتب میں اس بات کی تصریح ہے) اس میں احادیث صریحہ معتبرہ دارد ، ترمذی ابوداود ونسائی دارمی ابن حبان طبرانی حضرت رافع بن خدیج سے راوی کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
اسفروا بالفجر فانہ اعظم للاجر [5](یعنی صبح کو خوب روشن کرو کہ اسفار میں اجر زیادہ ہے)
ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ولفظ الطبرانی :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع