دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اقول :  مگر استبعاد مذکور کا جواب واضح ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ مولٰی عزوجل بعض نعمتیں بعض انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمائے اگلی اُمتوں میں نبی کے سوا کسی کو نہ ملتی ہوں مگر اس امت مرحومہ کیلئے اُنہیں عام فرمادے جیسے کتاب الله  کا حافظ ہونا کہ اُمم سابقہ میں خاصہ انبیاء علیہم الصلاۃ والثناء تھا اس اُمت کے لئے رب عزوجل نے قرآن کریم حفظ کیلئے آسان فرمادیا کہ دس دس۱۰ برس کے بچّے حافظ ہوتے ہیں اور ہمارے مولٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فضل ظاہر ہے کہ اُن کی اُمت کو وہ ملا جو صرف انبیاء کو ملاکرتا تھا علیہ وعلیہم افضل الصلاۃ والثناء والله  سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ باقی رہا سوال کا دوسرا جُز کہ کون سی نماز کس نبی نے پہلے پڑھی ، اس میں چار۴ قول ہیں :

اوّل : قول امام عبیدالله  بن عائشہ ممدوح کہ جب آدمعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کی توبہ وقتِ فجر قبول ہُوئی انہوں نے دو۲ رکعتیں پڑھیں وہ نماز صبح ہُوئی۔ اور اسحٰقعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کا فدیہ وقت ظہر آیا ابرہیمعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے چار پڑھیں وہ ظہر مقرر ہوئی۔ عزیر علیہ السّلام سو۱۰۰ برس کے بعد عصر کے وقت زندہ کئے گئے انہوں نے چار پڑھیں وہ عصر ہُوئی۔ داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توبہ وقتِ مغرب قبول ہُوئی چار رکعتیں پڑھنے کھڑے ہوئے تھك کر تیسری پر بیٹھ گئے ، مغرب کی تین ہی رہیں ۔ اور عشاء سب سے پہلے ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے پڑھی۔

رواہ کماذکرنا الامام الطحاوی قال :  حدثنا القاسم بن جعفر قال سمعت بحر بن الحکم الکیسانی قال سمعت ابا عبدالرحمٰن بن محمد ابن عائشۃ یقول ، فذکرہ[1]۔

جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے اسی کے مطابق اس کو طحاوی نے روایت کیا ہے کہ قاسم ابن جعفر نے بحر ابن حکم کیسانی سے ، اس نے ابوعبدالرحمن عبدالله  ابن محمد ابن عائشہ سے سُنا اس کے بعد سابقہ روایت بیان کی ہے۔ (ت)

دوم قول امام ابوالفضل کہ سب سے پہلے فجر کو دو۲ رکعتیں حضرت آدم ، ظہر کو چار رکعتیں حضرت ابرہیم ، عصر حضرت یونس ، مغرب حضرت عیسٰی ، عشاء حضرت موسٰی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی۔ ذکرہ الامام الزندوستی فی روضتہ قال سألت ابا الفضل فذکرہ (اس کو امام زندوستی نے اپنی روضہ میں ابو الفضل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ کہا میں نے ابو الفضل سے پُوچھا تو انہوں نے یہ ذکر کیا۔ ت) یہ حکایت ایك لطیف کلام پر مشتمل ہے لہذا اُس کا خلاصہ لکھیں امام زندوستی فرماتے ہیں میں نے امام ابوالفضل سے پوچھا صبح کی دو۲ رکعتیں ظہر وعصر وعشاء کی چار مغرب کی تین کیوں ہوئیں ۔ فرمایا حکم۔ میں نے کہا مجھے اور ابھی افادہ کیجئے۔ کہا ہر نماز ایك نبی نے پڑھی ہے ، آدم علیہ الصلوٰۃ والسّلام جب جنّت سے زمین پر تشریف لائے دنیا آنکھوں میں تاریك تھی اور ادھر رات کی اندھیری آئی ، انہوں نے رات کہاں دیکھی تھی بہت خائف ہُوئے ، جب صبح چمکی دو۲ رکعتیں شکرِ الٰہی کی پڑھیں ، ایك اس کا شکر کہ تاریکی شب سے نجات ملی دوسرا اس کا کہ دن کی روشنی پائی انہوں نے نفل پڑھی تھیں ہم پر فرض کی گئیں کہ ہم سے گناہوں کی تاریکی دُور ہو اور طاعت کا نُور حاصل۔ زوال کے بعد سب سے پہلے ابراہیمعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے چار رکعت پڑھیں جبکہ اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ اُترا ہے پہلی اس کے شکر میں کہ بیٹے کا غم دُور ہوا دوسری فدیہ آنے کے سبب ، تیسری رضائے مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کا شکر ، چوتھی اس کے شکر میں کہ الله  عزوجل کے حکم پر اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے گردن رکھ دی ، یہ ان کے نفل تھے ہم پر فرض ہُوئیں کہ مولٰی عـــہ تعالٰی ہمیں قتلِ نفس پر قدرت دے جیسی اُنہیں ذبحِ ولد پر قدرت دی اور ہمیں بھی غم سے نجات دے اور یہود ونصارٰی کو ہمارا فدیہ کرکے نار سے ہمیں بچالے اور ہم سے بھی راضی ہو۔ نمازِ عصر سب سے پہلے یونس علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے پڑھی کہ اس وقت مولٰی تعالٰی نے انہیں چار۴ ظلمتوں سے نجات دی : ظلمتِ لغزش ، ظلمتِ غم عـــہ۱ ، ظلمتِ دریا ، ظلمتِ شکمِ ماہی۔ یہ اُن کے نفل تھے ہم پر فرض ہوئی کہ ہمیں مولٰی تعالٰی ظلمتِ گناہ وظلمتِ قبر وظلمتِ قیامت وظلمتِ دوزخ سے پناہ دے۔ مغرب سب سے پہلے عیسٰی علیہ الصّلوٰۃ والسلام نے پڑھی عـــہ۲ ، پہلی اپنے سے نفی الوہیت ، دوسری اپنی ماں سے نفی الوہیت ، تیسری الله  عزوجل کے لئے اثباتِ الوہیت کیلئے۔ یہ ان کے نفل ہم پر فرض ہُوئے کہ روزِ قیامت ہم پر حساب آسان ہو ، نار سے نجات ہو ، اُس بڑی گھبراہٹ سے پناہ ہو۔ اقول : اور مقام سے مناسب تر یہ تھا کہ یوں فرماتے کہ ہم اپنی خودی اور فخرِ آبأ سے باہر آکر الله  عزّوجل کے لئے خاص متواضع ہوں ۔

سب سے پہلے عشاء مُوسٰی علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے پڑھی جب مدائن سے چل کر راستہ بھُول گئے۔ بی بی کا غم ، اولاد کی فکر ، بھائی پر اندیشہ ، فرعون سے خوف ، جب وادیِ ایمن میں رات کے وقت مولٰی تعالٰی نے اِن سب فکروں سے انہیں نجات بخشی ، چار نفل شکرانے کے پڑھے ہم پر فرض ہُوئی کہ الله  تعالٰی ہمیں بھی راہ دکھائے ہمارے بھی کام بنائے ہمیں اپنے محبوبوں سے ملائے دشمنوں پر فتح دے آمین!

سوم قول بعض علماء کہ فجر آدم ، ظہر ابراہیم ، عصر سلیمان ، مغرب عیسٰی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی اور عشا خاص اس اُمّت کو ملی کماتقدم عن الحلیۃ (جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے گزرا ہے۔ ت)

چہارم وہ حدیث کہ امام اجل رافعی نے شرح مسند میں ذکر فرمائی کہ صبح آدم ، ظہر داؤد ، عصر سلیمٰن ، مغرب یعقوب ، عشاء یونس علیہم الصلاۃ والسلام سے ہے ذکرہ عنہ الزرقانی فی شرح المواھب والحلبی تماما فی الحلیۃ قال واورد فی ذلك خبرا [2] (اس کو زرقانی نے شرح مواہب میں رافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور حلبی نے حلیہ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے ، حلبی نے کہا کہ رافعی نے اس سلسلے میں ایك روایت پیش کی ہے۔ ت) غرض نماز صبح میں چاروں متفق ہیں باقی چار میں اختلاف۔

اقول :  فقیر کی نظر میں ظاہرًا قول اخیر کو سب پر ترجیح کہ اوّل تو وہ حدیث ہے لااقل اثر صحابی یا تابعی سہی اقوال علمائے مابعد پر ہرطرح مقدم رہے گی خصوصًا ایسے امر میں جس میں رائے وقیاس کو دخل نہیں ۔

عـــہ لفظ الکتاب فامرنا بذلك لانہ تعالٰی وفقنا علی اببلیس کماوفقہ لذبح الولد وانجانامن الغم کماانجاہ وفدانا من النار کمافداہ ورضی عنا

کتاب (یعنی روضہ) کی عبارت یوں ہے : “ تو ہمیں ظہر کی چار رکعتوں کا حکم دیا گیا کیونکہ ہمیں بھی الله  تعالٰی نے شیطان کے مقابلے کی توفیق عطا فرمائی جس طرح(باقی برصفحہ آئندہ)

 (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

کمارضی عنہ [3] اھ اقول :  وماذکرت احسن من ستۃ وجوہ لاتخفی علی المتأمل ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عـــہ۱ :  الذی فی الکتاب وظلمۃ اللیل [4]  اقول :  ان کانت تذھب بالنھار فقدذھبت قبل العصر والافلا اثرلھا ولذا ابدلتھا  منہ غفرلہ (م)

عــہ۲ :  الذی فی الکتاب اول من صلی المغرب تطوعا شکرا عیسٰی علیہ الصّلٰوۃ والسلام حین خاطبہ الله تعالٰی بقولہ أانت قلت للناس اتخذونی وامی الٰھین من دُون الله وکان ذلك بعد غروب الشمس [5]  الخ اقول المعروف ان ھذا الخطاب یوم الحساب الاتری الی قولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۱۲ منہ غفرلہ (م)                                                                                                                                                                                                                             

ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرنے کی توفیق بخشی اور ہمیں بھی غم سے نجات دی جیسے ان کو دی تھی اور (یہود ونصارٰی کو جہنم میں ) ہمارا فدیہ بنایا جس طرح ان کیلئے (جنتی دُنبے کو اسمٰعیل علیہ السلام کا) فدیہ بنایا اور ہم سے بھی الله  تعالٰی راضی ہوا جیسے کہ ان سے ہوا اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) ان الفاظ کی بنسبت میری ذکر کردہ عبارت چھ۶ وجوہ سے زیادہ عمدہ ہے اور یہ وجوہ سوچنے والے پر مخفی نہیں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) کتاب میں (ظلمتِ غم کی بجائے) “ ظلمتِ لیل “ مذکور ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ظلمتِ لیل مراد ہوتو نہار کی وجہ سے ظلمتِ لیل ختم ہوجاتی ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ رات کا اندھیرا وقت عصر سے پہلے ہی ختم ہوچکا ورنہ لازم آئیگا کہ نہار کا کوئی اثر ہی نہ ہو اسی لئے میں نے اس کو ظلمتِ غم سے بدلا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)کتاب میں یوں ہے کہ سب $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن