30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اوقاتِ نماز جو شارع علیہ السلام نے معین فرمائے ہیں ان کے بیچ میں کسی نماز کا فاصل وقت مقرر کرنا جائز ہے یا حرام؟
الجواب :
حدیث میں سنّتِ اقدس یوں مروی ہے کہ جب لوگ جلد حاضر ہوجاتے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنماز جلد پڑھ لیتے اور حاضری میں دیر ملاحظہ فرماتے تو تاخیر فرماتے اور کبھی سب لوگ حاضر ہوجاتے اور تاخیر فرماتے یہاں تك کہ ایك بار نماز عشا میں تشریف آوری کا بہت انتظارِ طویل صحابہ کرام نے کیا بہت دیر کے بعد مجبور ہوکر امیرالمومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے درِ اقدس پر عرض کی کہ عورتیں اور بچّے سوگئے ، اس کے بعد حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبرآمد ہوئے اور فرمایا : “ رُوئے زمین پر تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کرتا ہو اور تم نماز ہی میں ہو جب تك نماز کے انتظار میں رہو “ ۔ نمازوں کے لئے اگر گھنٹے گھڑی کے حساب سے اگر کوئی وقت معین کرلیا جائے جس سے لوگوں کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے اور وقت معین پر جلد جمع ہوجائیں جیسا حرمین طیبین میں اب معمول ہے تو اس میں بھی حرج نہیں جبکہ ضعیفوں اور مریضوں پر تکلیف اور جماعت کی تفریق نہ ہو ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۹) از مرادآباد مرسلہ مولوی محمد عبدالباری صاحب ۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی امام عادتًا مغرب کی اذان اُس وقت دَلاوے کہ اُس شہر کی سب مساجد میں یقینا نماز ہوچکی ہو مثلًا ۲۰ منٹ کے بعد اور اپنے پیر کے دکھانے کو یعنی اُس کی موجودگی میں بیس۲۰ منٹ قبل قصدًا ایسا کرے اور ساتھ ہی اس کے جو سجود وقعود کہ وہ عادتًا کرتا تھا اپنے پیر کی موجودگی اُس سے سہ گنے وقت میں ادا کرے تو یہ اذان ونماز کہاں تك ریا ومکاری پر دال ہے۔
الجواب :
اذانِ مغرب میں بلاوجہ شرعی تاخیر خلاف سنّت ہے پیر کے سامنے جلد دلوانا ریا پر کیوں محمول کیا جائے بلکہ پیر کے خوف یا لحاظ سے اُس خلافِ سنّت کا ترك پیر کے سامنے رکوع وسجود میں دیر بھی خواہ نخواہ ریا اور مکاری پر دلیل نہیں بلکہ اس کے موجود ہونے سے تأثر بھی ممکن اور مسلمانوں کا فعل حتی الامکان محملِ حسن پر محمول کرنا واجب اور بدگمانی ریا سے کچھ کم حرام نہیں ، ہاں اگر رکوع وسجود میں اتنی دیر لگاتا ہوکہ سنّت سے زائد اور مقتدیوں پر گراں ہو تو ضرور گنہگار ہے والله تعالٰی اعلم۔
سوال دوم(۳۰۰) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ طلوع آفتاب ہونے کے کتنی دیر کے بعد نماز قضا پڑھنے کا حکم ہے اور وہ شخص جس نے کہ سنّتیں فجر کی نہ پڑھی ہوں اور دس بارہ منٹ طلوع میں باقی ہوں نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں ، اسی طرح پر ظہر کی سنت بے پڑھے امامت کرسکتا ہے یا نہیں ، بینوا توجروا۔
الجواب :
طلوع کے بعد کم ازکم بیس۲۰ منٹ کا انتظار واجب ہے۔ دس بارہ منٹ میں سنّتیں اور فرض دونوں ہوسکتے ہیں سنّتیں پڑھ کر نماز پڑھائے ، اگر وقت بقدر فرض ہی کے باقی ہے تو آپ ہی سُنتیں چھوڑے گا پھر اگر جماعت میں کسی نے ابھی سُنتّیں نہ پڑھیں یا جس نے پڑھیں وہ قابلِ امامت نہیں تو جس نے نہ پڑھیں وہی امامت کرے گا اور اگر وقت میں وسعت ہے تو سنّتِ قبیلہ کا ترك گناہ ہے اور اُس کی امامت مکروہ ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۱) از موضع باکڑی ضلع گورگانوہ ڈاك خانہ ڈھنیہ مسئولہ محمد یسین خان۱۰ مضان ۱۳۳۱ھ
علمائے دین کیا فرماتے ہیں ایك مولوی صاحب مولود شریف عشا سے لے کر ایك بجے رات تك پڑھتے اور نمازِ عشا بعد مولود شریف کے ایك بجے کے بعد پڑھتے ہیں بغیر عذر کے ، فقط۔
الجواب الملفوظ :
نمازِ عشا کی نصف شب سے زائد تاخیر مکروہ ہے اُن کو چاہئے عشا پڑھ کر مجلس شریف پڑھا کریں ، وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۲) از جے پور بیرون اجمیری دروازہ ، کوٹھی حاجی عبدالواجد علی خان مسئولہ حامد حسن قادری ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نمازِ مغرب اور افطاار کا حکم ایسے وقت دینا کہ چند حضار مسلمانوں کو غروب میں کلام ہوگیا ہے اور ان دونوں کا صحیح وقت کیا اور اس کی شناخت کیا ہے؟
(۲) نمازِ مغرب اور اذانِ عشا میں کس قدر فاصلہ درکار ہے ، کیا جس جگہ پر بحساب دھُوپ گھڑی قریب سواسات بجے شام کو اذانِ مغرب ہوتی ہو وہاں آٹھ بجے فرضِ عشا پڑھ سکتے ہیں ، اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ کم ازکم ایك گھنٹا پچیس منٹ کا فاصلہ اذانِ مغرب واذانِ عشا میں ہونا چاہئے ، اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
جب مشرق سے سیاہی بلند ہو اور مغرب میں دن چھپے اور آفتاب ڈوبنے پر یقین یعنی پورا ظنِّ غالب ہوجائے اُس وقت افطار کیا جائے اُس کے بعد دیر لگانا نہ چاہئے ، یہی علامات حدیث میں ارشاد ہوئیں اور جو عالم مقتدا ہو اور علمِ توقیت جانتا ہو اور اُسے قرائن صحیحہ سے غروب کا یقین ہوگیاہو وہ افطار کا فتوٰی دے سکتا ہے اگرچہ بعض ناواقفوں کو غروب میں ابھی تردّد ہو کما دَلّ علیہ حدیث انزل فاجدح لنا والله تعالٰی اعلم۔
(۲) یہ فاصلے باختلافِ عرض بلد مختلف ہوتے ہیں ، ان میں کم ازکم ایك گھنٹا ۱۸ منٹ کا فاصلہ ہے سواسات پر آفتاب ڈوبے اور پون گھنٹے بعد عشا ہوجائے ایسا تمام جہان میں کہیں نہیں جس زمانے میں سوا سات کے قریب غروب ہوتا ہے اذانِ مغرب وعشا کا فاصلہ اور بھی بہت زائد ہوجاتا ہے مثلًا ان بلاد میں ایك گھنٹا چھتیس منٹ اور پون گھنٹے کا فاصلہ تو ان بلاد میں کسی طرح مذہبِ صاحبین پر بھی صحیح نہیں تو وہ نمازِ عشا ازرُوئے مذہبِ حنفی بالکل باطل ہے ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۳) چہ میفر مایند علمائے دین اندرین مسئلہ کہ فرائض داخل نماز درہر صلاۃ فرضیت اویکسان ست یاصرف درنماز فرض ، بینوا توجّروا۔
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ جو فرائض نماز میں داخل ہیں ، ان کی فرضیت ہر نماز میں یکساں ہے یا صرف فرضی نمازوں کے ساتھ مختص ہے؟ بینوا توجّروا۔ (ت)
الجواب :
تکبیر تحریمہ در ہر نماز مطلقا حتی صلاۃ الجنازۃ ورکوع وسجود وقرأت وقعود درہر نمازِ مطلق اگرچہ نافلہ باشد
و قیام درہرنماز فرض وواجب ونیز درسنّت فجر علی الاصح وخروج بصنع خود علی تخریج البروعی بخلاف الکرخی اینہمہ فرض است وتعدیل ارکان واجب وقدرت ہمہ جاشرط است اخرس رابتکبیر وقرأت ومریض مؤمی رابررکوع وسجود تکلیف ندہند وفی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح للعلامۃ الشرنبلالی الاحدب اذابلغت حدبتہ الرکوع یشیر براسہ للرکوع لانہ عاجز مماھو اعلی [1] اھ والله تعالٰی اعلم۔
تکبیر تحریمہ ، ہر نماز میں ، حتی کہ نماز جنازہ میں بھی۔ رکوع ، سجود ، قرأت اور قعود (نماز جنازہ کے علاوہ) ہر نماز میں ، خواہ نفلی نماز ہو۔ قیام ، ہر اس نماز میں جو فرض اور واجب ہو اور اصح قول کے مطابق فجر کی سُنّتوں میں بھی۔ اپنے کسی عمل سے نماز سے فجر کی سُنّتوں میں بھی۔ اپنے کسی عمل سے نماز سے خارج ہونا بروعی کی تخریج کے مطابق ، کرخی کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ سب فرائض ہیں اور تعدیل ارکان واجب ہے۔ لیکن استطاعت سب میں شرط ہے۔ گونگا تکبیر وقرأت کا اور اشارہ کرنے والا مریض رکوع وسجود کا مکلّف نہیں ہے۔ علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے کہ اگر کُبڑے کا کُبڑا پن رکوع کی حد تك پہنچا ہوا ہے تو وہ رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے گا کیوں کہ اس سے زیادہ اس کے بس میں نہیں ہے اھ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع