30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) فجر کی نماز کا مستحب وقت کون سا ہے اور جس جگہ اُفق صاف نظر آتا ہو وہاں طلوع کی کیا پہچان ہے؟
(۲)ظہر کا اول وقت کَے بجے ہوتا ہے اور ضلع میرٹھ میں کَے بجے سے کَے بجے تك رہتا ہے اور جماعت کَے بجے ہونا چاہئے موسم گرما اور موسم سرما کب سے کب تك مانے جاتے ہیں اور ان میں ظہر کے مستحب اوقات کیا ہیں ؟
(۳) عصر کا مستحب وقت کون سا ہے ، جماعت کَے بجے ہونا چاہئے؟
(۴) جس جگہ اُفق نظر آتا ہو وہاں غروب کی کیا پہچان ہے اور غروب سے کتنی دیر بعد مغرب کی اذان اور جماعت ہونا چاہئے اور مغرب کا وقت کتنی دیر تك رہتا ہے؟
(۵) عشا کا وقت مغرب سے کتنی دیر بعد ہوتا ہے؟
الجواب الملفوظ
(۱ و ۵) فجر کا مستحب وقت اس کے وقت کا نصف اخیر ہے مثلًا اگر آج ایك گھنٹہ بیس منٹ کی صبح ہوتو اس وقت کے طلوع شمس میں چالیس۴۰ منٹ باقی رہیں اور افضل یہ ہے کہ ایسے وقت ۴۰ یا ۶۰ آیتوں سے پڑھی جائے کہ اگر فسادِ نماز ثابت ہوتو پھر طلوع سے پہلے یونہی اعادہ ہوسکے اس کا لحاظ رکھ کر جتنی بھی تاخیر کی جائے افضل ہے ، جب اُفق صاف نظر آتا ہے اور بیچ میں درخت وغیرہ کچھ حائل نہیں تو طلوع یہ ہے کہ آفتاب کی پہلی کرن چمکے اور غروب یہ کہ پچھلی کرن نگاہ سے غائب ہوجائے والله تعالٰی اعلم۔
(۲) ظہر کا اول وقت آفتاب نصف النہار سے ڈھلتے ہی شروع ہوتا ہے اور گھنٹوں کے اعتبار سے باختلاف بلاد مختلف ہوگا یہاں تك کہ بعض بلادِ ہندوستان میں بعض ایام میں ریلوے گھڑی سے ۱۲ بجے بھی وقتِ شروع ہوگا اور بعض یعنی بعض ایام میں ۱۱ بجے سے پہلے ظہر کا وقت ہوجائے گا یہ تعدیل ایام واختلافات طول معلوم ہونے پر موقوف ہے جماعت گرمی میں وقت ظہر کے نصف آخر میں ہو اور جاڑوں میں نصف اول میں ، میرٹھ میں کبھی ۵ بجے سے بعد تك وقتِ ظہر باقی رہتا ہے اور کبھی پونے چار بجے سے پہلے ختم ہوجاتا ہے اس میں بیانات کا اختلاف ہے اصل تقسیم اہلِ ہئیت نے یہ کی ہے کہ راس الحمل سے ختم جوزا تك بہار اور راس السرطان سے ختم سنبلہ تك گرما اورر اس المیزان سے ختم قوس تك خریف اور راس الجدی سے ختم حُوت تك سرما مگر یہ یہاں کہ فصلوں سے مطابق نہیں آتی ، صاحبِ بحر نے ربیع کو گرما سے ملحق کیا ہے اور یہ بھی قرین قیاس کہ آخر ستمبر سے دو ثلث مارچ تك سرما سمجھنا چاہئے اور باقی گرما ، والله تعالٰی اعلم۔
(۳) عصر کا وقت مستحب ہمیشہ اس کے وقت کا نصف اخیر ہے مگر روزِ ابر تعجیل چاہئے ، والله تعالٰی اعلم
(۴) غروب کا جس وقت یقین ہوجائے اصلًا دیر اذان وافطار میں نہ کی جائے اس کی اذان وجماعت میں فاصلہ نہیں ، مغرب کا وقت میرٹھ میں کم ازکم ایك گھنٹا ۱۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایك گھنٹا ۳۶ منٹ ہے ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۷) از موضع سراں ڈاك خانہ بشندورتحصیل ضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۷ شعبان ۱۳۳۷ھ
بخدمت جناب فیض مآب سرتاجِ حنفیان حضرت احمد رضا خان صاحب ادام الله فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ الله تعالٰی کے بعد بہزار آداب التماس کہ یم حنفیان کو بڑا فخر ہے کہ آپ جیسے مجتہد فقیہ خلیفہ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِوامام اعظم اس زمانے کے آپ موجود ہیں ان مسئلوں مفصلہ ذیل کی سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر بتحقیق عمیق وتدقیق مایطیق ارشاد فرمادیں عندالله ماجور ہوں گے اما مسئلہ اولٰی فی الزوال کی اور شناخت وقت ظہر کی سخت ضرورت ہے میں اس سے بہت حیران ہوں بعض اوقات مجمع عام میں نماز ظہر جو بدخول وقت اوّل ہی پڑھی جاتی ہے مگر مجھے یقین دخولِ وقت کا بھی نہیں ہوتا آپ تحریر فرمائیں کہ بارہ۱۲ بجے کے بعد ایك دو منٹ پر وقت ظہر داخل ہوتا ہے یا نہیں اور جن دیہات میں حساب گھڑی کا نہ ہو تو مسجد کے دروازہ سے اگر سایہ باہر ایك دو انگشت نکلے تو ظہر داخل ہے یا نہ ، پھر جب سایہ بڑھنے میں ہوتو وقت ظہر داخل ہے یا نہ قبل قیام ظہیرہ نصف نہار کے سایہ گھٹتا رہتا ہے نصف نہار کو کھڑا ہوتا ہے پھر بڑھنے لگتا ہے جب سایہ بڑھانے میں ہوتو ظہر داخل ہے یا نہ ، اور سایہ اصلی ظہر کے واسطے نکالا جاتا ہے یا نہ شناخت ظہر سفر حضر میں کس طرح ہوتی ہے اور سایہ اصل قبل زوال یا وقت زوال یا بعد زوال کیا ہوتا ہے اور سایہ اصلی بوقتِ دوپہر بطرف شمال ہوتا ہے پس عصر کے واسطے مقیاس کی بیخ سے سایہ اصلی خارج بطرف مشرق کیا جاتا ہے یا کہ بطرف شمال خارج کرکے پھر دو چند کیا جائے فرائد سنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بطرف شمال سایہ اصلی کو چھوڑ کر دو چند کیا جائے۔ عبارت فرائد سنیہ کی یہ ہے۔
معرفۃ فیئ الزوال یغرز خشبۃ مستویۃ فی ارض مستویۃ قبل الزوال فالظل ینقص فاذاوقف لم ینقص ولم یزد فھو قیام الظھیرۃ فاذا اخذ فی الزیادۃ فقد زالت الشمس فخط علی راس الزیادۃ خطا فیکون من راس الخط الی العود فیئ الزوال فاذا صار ظل العود مثلہ اومثلیہ من راس الخط لامن موضع غرز العود خرج وقت الظھر ودخل وقت العصر وفیئ الزوال یکون الی الشمال [1]۔
فیئ الزوال کی پہچان۔ زوال سے پہلے ایك سیدھی لکڑی ہموار زمین میں نصب کی جائے تو اس کا سایہ کم ہوتا جائیگا ، جب سایہ ٹھہر جائے اور گھٹے بڑھے نہ تو یہ قیام ظہیرہ کا وقت ہے۔ جب بڑھنے لگے تو سورج کا زوال شروع ہوجاتا ہے ، اب جہاں سے بڑھنے کا آغاز ہوا ہے وہاں ایك لکیر بطور نشانی لگا دو ، اس لکیر سے لکڑی تك جو سایہ ہے یہ فیئ الزوال ہے ، جب لکڑی کا سایہ اس کی ایك مثل یا دو مثل ہوجائے یعنی لکیر سے ، نہ کہ لکڑی کی جڑ سے ، تو ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا اور عصر کا وقت داخل ہوجائے گا اور زوال کا سایہ شمالی کی جانب ہوتا ہے۔ (ت)
اس مسئلہ کی مجھے سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر اس میں اچھی غور فرماکر پھر ان میں جو جو میرے سوالات ہیں جن کے سبب میں غلطی میں پڑا ہُوں ان کو بنور سواد منور فرماؤ۔
الجواب :
نصف النہار وفیئ الزوال کی یہ کافی پہچان ہے جو آپ نے فرائد سنیہ سے نقل کی ہموار زمین میں سیدھی لکڑی عمودی حالت پر قائم کی جائے اور وقتًا فوقتًا سایہ کو دیکھتے رہیں جب تك سایہ گھٹنے میں ہے دوپہر نہیں ہوا اور جب ٹھہر گیا نصف النہار ہوگیا اس وقت کا سایہ ٹھیك نقطہ شمال کی جانب ہوگا اسے ناپ رکھا جائے کہ یہی فیئ الزوال ہے اس سے پہلے سایہ مغرب کی طرف تھا جب سایہ بڑھنے لگا دوپہر ڈھل گیا اب سایہ مشرق کی طرف ہوجائے گا جب لکڑی کا سایہ مشرق وشمال کے گوشہ میں اُسے فے ءالزوال کی مقدار اور لکڑی کے دو مثل کو پہنچ گیا مثلًا آج ٹھیك دوپہر کو لکڑی کا سایہ اُس کا نصف مثل تھا اور اُس وقت خاص نقطہ شمال کو تھا اب وقتًا فوقتًا بڑھے گا اور مشرق کی طرف جھکے گا جب سایہ لکڑی کا ڈھائی مثل ہوجائے عصر ہوگیا اور اس سے زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ صحیح کمپاس سے نہایت ہموار زمین میں سیدھا خط جانبِ قطب کھینچ لیجئے اور اس خط کے جنوبی کنارے پر وہ لکڑی عمودًا قائم کیجئے لکڑی کا سایہ جب تك اس خط سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہوا جب سایہ اس خط پر منطبق ہوجائے ٹھیك دو پہر ہے اور اُسی وقت کا سایہ فیئ الزوال ہے جب سایہ اس خط سے مشرق کو ہٹے دوپہر ڈھل گیا مسجد کی مشرقی دیوار اگر سیدھی ہموار اور ٹھیك نقطتین جنوب وشمال کو ہے اور اُس کے دونوں پہلو پر زمین ہموار ہے تو اُس سے بھی شناخت ہوسکتی ہے دیوار کا سایہ جب تك اُس سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہُوا اور جب مشرق کو پڑے دوپہر ڈھل گیا اور جب دونوں پہلوؤں پر سایہ نہ ہو تو ٹھیك دوپہر ہے گھڑیوں کے بارہ۱۲ سے $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع