دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

مکت ہے۔ مسلمانو! حضرات کے یہ انداز دیکھے بھالے اپنا ایمان بچائے سنبھالے ، فریب میں نہ آنا یہ زہر درجام ہیں دھوکا نہ کھانا ، سبزہ بردام ہیں بے سہاروں کی چال ہر حال بُری ہے تقلید سے بری ائمہ سے بری ہے ، بے راہ روی کا دھیان نہ لانا چادر سے زیادہ پاؤں نہ پھیلانا ، اتباعِ ائمہ راہِ ہُدٰی ہے راہِ ہُدٰی کا والی خدا ہے ، لله الحمد ولی الھدایۃ منہ البدایۃ والیہ النھایۃ۔

خلاصۃ الکلام و حسن الختام

الحمدلله سخن اپنے ذروہ اقصٰی کو پہنچا اب ملخص کلام وحاصل مرام چند باتیں یاد رکھئے :

اوّلا جمع صوری بدلائل صحیحہ روشن ثبوت سے بے پردہ وحجاب اور اُس کا انکار انکارِ آفتاب۔

ثانیا کسی حدیث صحیح میں جمع تقدیم کا نام کو بھی اصلًا پتا نہیں اُس کی نسبت ادعا ی قطعی ثبوت محض نسج العنکبوت۔

ثالثًا جمع تاخیر میں بھی کوئی حدیث صحیح صریح جیسا کہ ادعا کیا جاتا ہے ہرگز موجود نہیں یا ضعاف ومناکیر ہیں یا محض بے علاقہ یا صاف محتمل اور محتملات سے ہوسِ اثبات مہمل ومختل۔

رابعًا جب جمع صوری پر ثبوت مفسر متعین ناقابل تاویل قائم تو محتملات خصوصًا حدیث ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا اُسی کی طرف رجوع لازم کہ قاعدہ ارجاع محتمل بہ متعین ہے نہ عکس کہ سراسر نکس۔

خامسًا نماز بعد شہادتین اہم فرائض واعظم ارکان اسلام ہے اور اُس میں رعایت وقت کی فرضیت اور اظہر ضروریاتِ دین سے جسے مسلمانوں کا ایك ایك بچّہ جانتا ہے یونہیں اوقاتِ خمسہ غایت شہرت واستفاضہ پر بالغ حد تو اتر ہیں اگر حضور پُرنور سید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حالتِ سفر میں جس کی ضرورت ہمیشہ ہر زمانہ میں ہر شخص کو رہی اور رہتی ہے چار نمازوں کے لئے اوقاتِ مشہورہ معلومہ معروفہ کے سوا قولًا یا فعلًا کوئی اور حکم عطا فرمایا ہوتا تو واجب تھا کہ جس شہرت جلیلہ کے ساتھ اوقاتِ خمسہ منقول ہوئے اُسی طرح یہ نیا وقت بھی نقل کیا جاتا آخر حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ فعل کسی خلوت میں نہ کیا غزوہ تبوك میں ہزارہا صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمہمراہِ رکاب سعادت مآب تھے اگر حضور جمع فرماتے بلاشبہہ وہ سب کے سب دیکھتے اور کثرت رواۃ سے اسے بھی مشہور کر چھوڑتے یہ کیا کہ ایسی عظیم بات ایسے جلیل فرض کے ایسے ضروری لازم میں ایسی صریح تبدیل ایسے مجمع کثیر کے سامنے واقع ہو اور اُسے یہی دو ایك راوی روایت فرمائیں تو بلاشبہہ یہی جمع صوری فرمائی جس میں نہ وقت بدلا نہ کسی حکم میں تغیر نے راہ پائی کہ اُس کے اشتہار پر دواعی متوفر ہوتے نظرِ انصاف صاف ہو تو صرف ایك یہی کلام تمام دلائل خلاف کے جواب کو بس ہے کہ جب باوصف توفر دواعی نقل آحاد ہے تو لاجرمِ جمع صوری پر محمول کہ توفر مہجور اور بالفرض کوئی روایت مفسرہ ناقابل  تاویل ملے تو متروك العمل کہ ایسی جگہ آحاد رہنا عقل سے دُور۔

سادسًا نمازوں کے لئے تعیین وتخصیص اوقات وآیات قرآن عظیم واحادیث حضور سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے قطعی الثبوت ہے اگر کہیں اُس کا خلاف مانیے تو وہ بھی ویسا ہی قطعی چاہے جیسے عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ کا اجماعی مسئلہ ورنہ یقینی کے مقابل ظنی مضمحل۔

سابعًا بالفرغ اگر مثل منع دلائل جمع بھی قابل سمع تسلیم کیجئے تاہم ترجیح منع کوہے کہ جب حاظر ومبیح مجتمع ہوں تو حاظر مقدم ہے۔

ثامنًا جانب جمع صرف نقل فعل ہے قول اگر ہے تو جمع صوری میں اور جانب منع دلائل قولیہ وفعلیہ دونوں موجود اور قول فعل پر مرجح تو مجموع قول وفعل محض نقل فعل پر بدرجہ اولٰی۔

تاسعًا  افقہیت راوی اور مرجح منع ہے کہ ابن عمر وانس میں کسی کو فقاہت جلیلہ عبدالله  بن مسعود تك رسائی نہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین ، یہ وہی ابن مسعود ہیں جن کی نسبت حدیث میں ہے ، حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تمسکوا بعھد ابن ام عبد[1]۔ (ابن اُم عبد کی باتوں سے تمسك کیا کرو) رواہ الترمذی عنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔

(نوٹ : اصل متن ترمذی میں الفاظ یوں ہیں تمسکوا بعھد ابن مسعود رضی الله  عنہ۔ نذیر احمد)

مرقاۃ میں ہے اسی لئے ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُن کی روایت وقول کو خلفائے اربعہ کے بعد سب صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں [2]۔ یہ وہی ابنِ مسعود ہیں جنہیں حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُصاحبِ سرِّ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے :

ان اشبہ الناس دلاوسمتا وھدیا برسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لابن ام عبد[3]۔ رواہ البخاری ف والترمذی والنسائی۔

بیشك چال ڈھال روش میں سب سے زیادہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مشابہ عبدالله  بن مسعود ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔

یہ وہی ابنِ مسعود ہیں جنہیں امیرالمومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے : کیف ملئ علما [4](ایك گٹھری ہیں علم سے بھری ہُوئی)نہایت یہ کہ حضور اقدس سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : رضیت لامتی مارضی لھا ابن ام [5] عبد۔ (میں نے اپنی اُمت کے لئے پسند فرمالیا جو کچھ عبدالله  بن مسعود اس کے لئے پسند کرے رواہ الحاکم بسند صحیح۔

لاجرم ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے نزدیك خلفائے اربعہ رضوان الله  تعالٰی علیہم کے بعد وہ جناب تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے علم وفقاہت میں زائد ہیں ، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے :

ھو عند ائمتنا افقہ الصحابۃ بعد الخلفاء الاربعۃ [6]۔

ہمارے ائمہ کے نزدیك ابنِ مسعود خلفاءِ اربعہ کے بعد سب سے زیادہ فقیہ ہیں ۔ (ت)

عاشرًا عـــہ اگر بالفرض براہین منع وا د لّہ جمع کانٹے کی تول برابر ہی سہی تاہم منع ہی کو ترجیح رہے گی کہ اس میں احتیاط زائد ہے اگر عندالله  جمع درست بھی ہوئی تو ایك جائز بات ہے جس کے ترك میں بالاجماع گناہ نہیں بلکہ اتفاق اُس کا ترك ہی افضل ہے اور اگر عندالله  نادرست ہے تو جمع تاخیر میں نماز دانستہ قضا کرنی ہوگی اور جمع تقدیم میں سرے سے ادا ہی نہ ہوگی فرض گردن پر رہے گا تو ایسی بات جس کا ایك پہلو خلاف اولٰی اور دوسری جانب حرام وگناہ کبیرہ ہو عاقل کا کام یہی ہے کہ اُس سے احتراز کرے ، یہاں جو ملّاجی ایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ کر لکھ گئے ہیں کہ ف۱ تشکیك مذکور اُس صورت میں جاری ہوتی ہے جس میں طرفین کا مذہب مدلّل بدلائل ہو اور صورت اختلاف کی ہو



[1]   جامع الترمذی مناقب عبداللہ بن مسعود مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۲۱

[2]   مرقات المفاتیح جامع المناقب ، الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۱۱ / ۴۰۹

[3]   مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ بخاری باب جامع المناقب مطبع مجتبائی دہلی ص ۵۷۴)
(جامع الترمذی ، مناقب عبداللہ بن مسعود امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۲۲)

ف۔ مشکوٰۃ میں بعینہٖ یہی الفاظ ہیں جبکہ ترمذی میں الفاظ یوں ہیں۔ کان اقرب الناس ھدیا ودلا وسمتا برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ابن مسعود اور بخاری میں الفاظ یوں ہیں مااعلم احدًا اقرب سمتا وھدیا ودلا بالنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن ابن ام عبد۔ 

[4]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن