30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خالد امام اجل ثقہ ثبت حافظ جلیل الشان خالد بن حارث بصری ہیں کہ امام شعبہ بن الحجاج بصری کے خُلّص تلامذۃ اور امام اسمٰعیل بن مسعود بصری کے اجل اساتذہ اور رجال صحاح ستّہ سے ہیں اسمٰعیل بن مسعود کو اُن سے اور اُنہیں شعبہ سے اکثار روایت بدرجہ غایت ہے ، اسی سنن نسائی میں اسمٰعیل کی بیسیوں روایات اُن سے موجود ، ان میں بہت خاص اسی طریق سے ہیں کہ اسمٰعیل خالد بن حارث سے اور خالد شعبہ بن الحجاج سے ان میں بہت جگہ خود اسمٰعیل نے نسبِ خالد مصرحًا بیان کیا ہے۔ بہت جگہ اُنہوں نے حسبِ عادت مطلق چھوڑا۔ امام نسائی نے واضح فرمادیا ہے بہت جگہ سابق ولاحق بیانوں کے اعتماد پر یوں ہی مطلق باقی رکھا ہے میں آپ کا حجاب ناواقفی توڑنے کو ہر قسم کی مصرح
روایات سے بہ نشان کتاب وباب کچھ حاضر کروں ۔
طریق شعبۃ : (۱) کتاب الافتتاح باب التطبیق اخبرنا اسمٰعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ عن سلیمٰن [1] الخ۔
(۲) کتاب الطہارۃ باب النضح اخبرنا اسمٰعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ [2] الخ۔
(۳) کتاب المواقیت الرخصہ فی الصلاۃ بعد العصر اخبرنا اسمٰعیل بن مسعود عن خالد بن الحارث عن شعبۃ [3] الخ۔
(۴) کتاب الامامۃ ، الجماعۃ اذاکانوا اثنین اخبرنا اسمعیل بن مسعود ثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ [4] الخ۔
(۵) کتاب السہو باب التحری اخبرنا اسمٰعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ [5] الخ۔
(تصریح اسمعیل سوی مامر)
(۶) کتاب الامامۃ الرخصۃ للامام فی التطویل اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد بن الحارث [6] الخ۔
(۷) کتاب قیام اللیل ، باب وقت رکعتی الفجر اخبرنا اسمعیل بن مسعود قال ثنا خالد بن الحارث [7] الخ۔ (۸) کتاب الزکوٰۃ ، عطیۃ المرأۃ بغیر اذن زوجھا اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد بن حارث [8] الخ۔ (۹)المزارعۃ احادیث النہی عن کری الارض بالثلث والربع اخبرنا اسمعیل بن مسعود قال ثنا خالد بن الحارث [9] الخ۔ (۱۰)القسامۃ والقود ، باب عقل الاصابع اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث [10] الخ۔
(التصریح النسائی)
(۱۱) کتاب الحیض مضاجعۃ الحیض فی ثیاب حیضتہا اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد ھو ابن الحارث [11] الخ۔ (۱۲) قبیل کتاب الجمعۃ با ب اذاقیل للرجل ھل صلیت اخبرنا اسمعیل بن مسعود ومحمد بن عبدالاعلی قالا حدثنا خالد ھو ابن الحارث [12] الخ۔ (۱۳) کتاب الصیام التقدم قبل شھر رمضان اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد وھو ابن الحارث [13]۔ (۱۴) المزارعۃ من الاحادیث المذکورۃ اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد وھو ابن الحارث[14]۔ (۱۵) کتاب الاشربۃ الترخیص فی انتباذ البسر اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد یعنی ابن الحارث [15] الخ۔
کیوں مُلّاجی! یہ کیا دین ودیانت ہے کہ حدیثیں رَد کرنے کو ایسے جھُوٹے فقرے بناؤ اور بے تکان جزم کرتے ہوئے پلك تك نہ جھپکاؤ ، وہ تو خدا نے خیر کرلی کہ امام نسائی نے اسمعیل بن مسعود کہہ دیا تھا کہیں نرا اسمعیل ہوتا تو مُلّاجی کو کہتے کیا لگتا کہ یہ حدیث تم اہل سنّت کے نزدیك سخت مردود کہ اس کی سند میں اسمعیل دہلوی موجود ، مُلّاجی! صرف ایك مسئلے میں اول تا آخر اتنی خرافات ، علمِ حدیث کی کھُلی کھُلی باتوں سے یہ جاہلانہ مخالفات ، اگر دیدہ ودانستہ ہیں تو شکایت کیا ہے کہ اخفائے حق وتلمیح باطل وتلبیس عامی واغوائے جاہل ، طوائف ضالہ کا ہمیشہ داب رہا ہے ، اور اگر خود حضرت کی حدیث دانی اتنی ہے تو خدارا خدا ورسول سے حیا کیجئے ، اپنے دین دھرم پر دیا کیجئے یہ مُنہ اور اجتہاد کی لپک ، یہ لیاقت اور مجتہدین پر ہمک ، عمر وفا کرے تو آٹھ دس۱۰ برس کسی ذی علم مقلد کی کفش برداری کیجئے ، حدیث کے متون وشروح واصول ورجال کی کتابیں سمجھ کر پڑھ لیجئے اور یہ نہ شرمائیے کہ بوڑھے طوطوں کے پڑھنے پر لوگ ہنستے ہیں ، ہنسنے دو ہنستے ہی گھر بستے ہیں ، اگر علم مل گیا تو عین سعادت یا طلب میں مرگئے جب بھی شہادت ، بشرطِ صحت ایمان وحسن نیت والله الھادی لقلب اخبت۔
الحمدلله مہرِ حق متجلی ہوا اور آفتابِ صواب متجلی ، جن جن احادیث سے جمع بین الصلاتین کا ثبوت نہ سہل ثبوت بلکہ قطعی ثبوت زعم کیا گیا تھا واضح ہُوا کہ اُن میں ایك حرف مثبت مقال نہیں مذہب حنفی اثبات صوری ونفی حقیقی دونوں میں بے دلیل بتادیا تھا ، روشن ہُوا کہ قرآن وحدیث اُسی کے موافق دلائل ساطعہ اُسی پر ناطق جن میں رَد وانکار کی اصلًا مجال نہیں ، اور بعونہٖ تعالٰی بطفیل مسئلہ وہ تازہ مجہلہ کہنہ مشغلہ ادعائے عمل بالحدیث کا اُشغلا اُس کا بھرم بھی من مانتا کھلاکہ ہواسے غرض ہوس سے کام اور اتباعِ حدیث کا نام بدنام ، پُرانے پُرانے حد کے سیانے جب اپنی سخن پروری پر آئیں صحیح حدیثوں کو مردود بتائیں ثقہ ائمہ کو مطعون بتائیں ، بخاری ومسلم پسِ پشت ڈالیں ، اُن کے رواۃ واسانید میں شاخسانے نکالیں ، ہزار چھل کریں سو ہزار پیچ جیسے بنے صحیح حدیثیں ہیچ ، امام مالك وامام شافعی کی تقلید حرام نہ فقط حرام کہ شرك کا پےغام ، مگر جب حنفیہ کے مقابل دم پر بنے مجتہد چھوڑ مقلدوں کی تقلید سے گاڑھی چھنے ، اب ایك ایك شافعی مالکی کو جھك جھك کر سلام اُس کے پاؤں پکڑ اُس کا دامن تھام ، یہ بڑا پیشوا وہ بھاری امام ، اُن میں جس کا کلام کہیں ہاتھ لگ گیا اگرچہ کیسا ہی ضعیف کتنا ہی خطا ، بس خضر مل گئے غنچے کھُل گئے ، اندر کے جی کے کواڑ کھُل گئے سب کوفت سوخت کے غبار دُھل گئے ، وحی مل گئی ایمان لے آئے اُسی سے حنفیہ پر حجت لائے ، اب خبردار کوئی پیچھے نہ پڑو احبار ورہبان کی آیت نہ پڑھو ، چھٹکارے کی گھڑی بچاؤ کا وقت ہے ، شرك بلا سے ہو اب تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع