دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

رسالہ الھاد الکاف فی حکم الضعاف۱۳۱۳ھ میں مطالعہ کیجئے اور سردست اپنی مبلغ علم تقریب ہی دیکھے کہ ضعیف درجہ ثامنہ اور متروك اُس کے دو۲ پایہ نیچے درجہ عاشرہ میں ہے خود عـــہ بعض ضعفا رجال شیخین میں اگرچہ متابعۃً یا یوں بھی واقع جس سے اُن کا نامتروك ہونا واضح۔

 

عــہ۱ مثل ابان خ بن یزید العطار ، یزیدع بن ابی انیسۃ ، عبدالرحمٰن خ بن غزوان وغیرہم ۱۲ منہ (م)

عــہ۲ جن میں تیس۳۰ سے زیادہ حواشی فصل اول پر مذکور ہوئے ۱۲ منہ (م)

ف ۱ معیارالحق ص ۳۸۴

عـــہ مثل اسید بن زید ، اسباط ابوالیسع ، عبدالکریم بن ابی المخار ، والاشعث بن سوار ، زمعۃ بن صالح ، محمد بن یزید الرفاعی ،  محمد بن عبدالرحمٰن مولی بنی زھرۃ ،  احمد بن یزید الحرانی ، ابی بن عباس وغیرھم ، قال فی التقریب فی الخمسۃ الاول :  ضعیف ، والسادس لیس بالقوی ، والسابع مجھول ، والثامن ضعفہ ابو حاتم ، والتاسع فیہ ضعف۔ وعبدالکریم ، علم لہ المزی فی التھذیب خت ، وتبعہ فی المیزان ، فقال :  اخرج لہ خ تعلیقا ، وم متابعۃ۔ وکذا تابعہ الحافظ فی رموز التقریب ، ثم نبہ ان الصواب خ ، حیث ذکر مالہ فی الجامع الصحیح ، ثم قال :  ھذا موصول ولیس معلقا۔ وقال فی الرفاعی :  ذکرہ ابن عدی فی شیوخ البخاری ، وجزم الخطیب بان البخاری روٰی عنہ؛ لکن قدقال البخاری :  رأیتھم مجمعین علی ضعفہ [1]۔ اھ قلت :  المثبت اثبت ، فلذا علمنا علیہ خ ، واخرناھا عن لمکان تردد الحافظ۔ والانصاف ان فلیحا وعبادا وامثالھا ایضا ضعفائ ، والعذر ماافادہ الامام ابن الصلاح وتبعہ النووی وغیرہ فارجع واعرف۔ والله تعالٰی اعلم (م)

مثلًا (ا) اسید (۲) اسباط (۳) عبدالکریم (۴) اشعت (۵) زمعہ (۶) محمد ابن یزید رفاعی (۷) محمد بن عبدالرحمن (۸) احمد (۹) اُبَیّ اور دوسرے۔ تقریب میں کہا کہ پہلے پانچ ضعیف ہیں ، چھٹا بھی خاص قوی نہیں ہے ، ساتواں مجہول ہے ، آٹھویں کو ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے ، نویں میں بھی ضعف ہے۔ عبدالکریم کے لئے مزی نے تہذیب میں “ خت “ کی علامت لگائی ہے (واضح رہے کہ “ خ “ سے مراد بخاری ہے اور “ ت “ سے تعلیق ، یعنی بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقًا لی ہے) میزان میں بھی تہذیب کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بخاری نے تعلیقًا اور مسلم نے متابعۃً روایت کی ہے۔ اسی طرح حافظ نے بھی تقریب کی علامات میں اس کی پیروی کی ہے لیکن پھر متنبہ کیا ہے کہ صحیح “ خ “ ہے ( “ خت “ نہیں ) چنانچہ حافظ نے پہلے تو عبدالکریم کی وہ روایت ذکر کی ہے جو بخاری میں ہے ، پھر کہا ہے کہ یہ روایت وصل کے ساتھ ہے نہ کہ تعلیق کے طور پر۔ (اس لئے “ خ “ کے ساتھ “ ت “ نہیں ہونی چاہے کیونکہ “ ت “ تعلیق کی علامت ہے)(محمد ابن یزید) رفاعی کے بارے میں کہا ہے کہ اس کو ابن عدی نے بخاری کے اساتذہ میں ذکر کیا ہے اور خطیب نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بخاری نے اس سے روایت کی ہے ، لیکن بخاری ہی نے کہا ہے کہ میں نے محدثین کو اس کے ضعف پر متفق پایا ہے اھ میں نے کہا ثابت کرنے والے کی بات زیادہ پختہ ہوتی ہے (اور ابن عدی نے اس کا شیخ بخاری ہونا ثابت کیا ہے) اس لئے ہم نے بھی اس کے نام پر “ خ “ کی علامت لگائی ہے۔ لیکن حافظ کو چونکہ اس کے شیخ بخاری ہونے میں تردّد ہے اس لئے “ خ “ کو ہم نے “ م “ کے بعد لگایا ہے ( “ م “ سے مراد مسلم ہے) اور انصاف کی بات یہ ہے کہ فلیح ، عباد اور ان جیسے اور کوئی راوی بھی ضعیف ہیں (اس کے باوجود ان کی روایات صحاح میں پائی جاتی ہیں ) امام ابن الصلاح نے اس کی معذرت خواہانہ وجہ بیان کی ہے اور نووی وغیرہ نے بھی ان کا اتباع کیا ہے ، اس لئے ان کی طرف مراجعت کرو اور سمجھو! والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

رابعا : یہ سب کلام ملّاجی کی غیبی بول عیبی احکام مان کرتھا حضرت کی اندرونی حالت دیکھےے تو پھر حسبِ عادت جو رواۃِ حدیث بے نسب ونسبت پائے ان میں جہاں تحریف وتصرف کا موقع ملا وہی تبدیل کا رنگ لائے سند میں تھا عن شعبۃ عن سلیمٰن۔ اب ملّاجی اپنی مبلغ علم تقریب کھول کر بیٹھے رواۃ نسائی میں شعبہ نام کا کوئی نہ ملا جس پر تقریب میں کچھ بھی جرح کی ہو لہذا وہاں بس نہ چلا سلیمٰن کو دیکھیں تو پہلی بسم الله  یہی سلیمٰن بن ارقم ضعیف نظر پڑا حکم جڑ دیا کہ سند میں وہی مراد اور حدیث مردود ، ملّاجی! اپنے دھرم کی قسم سچ بتانا یہ جبروتی حکم آپ نے کس دلیل سے جمایا ، کیا اسی کا نام محدّثی ہے ، سچّے ہوتو برہان لاؤ ورنہ اپنے کذب وعیب رحم بالغیب پر ایمان قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۱۱) حق طلبان وحق نیوش کو اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مخرج حدیث اعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمٰن عن عبدالله  بخاری مسلم ابوداؤد نسائی وغیرہم سب کے یہاں حدیث عمارہ بطریق امام اعمش ہی مذکور ، صحیحین کی تین سندیں بطرق حفص بن غیاث وابی معٰویۃ وجریر کلھم عن الاعمش عن عمارۃ صدر کلام میں ، اور ایك سند نسائی بطریق داود عن الاعمش عن عمارۃ اس کے بعد سُن چکے۔ پنجم نسائی کتاب الصلاۃ میں ہے : اخبرنا قتیبۃ ثنا سفیان نا الاعمش عن عمارۃ[2] الخ۔ ششم : نسائی مناسك باب الوقت الذی یصلی فیہ الصبح بالمزدلفۃ اخبرنا محمد بن العلاء ثنا ابومعٰویۃ عن الاعمش عن عمارۃ [3]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن