30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت العشاء ، ولم یبین الاخر ، وھو العصر یوم عرفۃ ، بتقدیمہ فی وقت الظھر ، لشھرتہ ، و لیعلم بالمقایسۃ ، واخبر خبرا اٰخر ، وھو تقدیم الفجر عن الوقت المسنون المعتاد عندہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ واذا کان حال خبر الجمع ماذکرنا وجب ردہ اوتاویلہ [1]۔
نیز دو نمازوں کو جمع کرنے کی خبر صرف غزوہ تبوك میں منقول ہے اور اس غزوے میں ہزاروں لوگ شامل تھے اور سب نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پیچھے نمازیں پڑھیں تھیں ، مگر ایك یا دو کے علاوہ کسی نے جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا ، نہ یہ بات مشہور ہُوئی ، اس روایت کے علاوہ جمع کی کوئی روایت نہیں آئی ہے ، بلکہ بعض حاضرین تبوك نے اس جمع سے صاف انکار کیا ہے ، حتی کہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجن کے بارے میں رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ابن ام عبد (یعنی ابن مسعود) کی باتوں سے تمسك کیا کرو نے فرمایا ہے کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کوئی نماز بغیر وقت کے پڑھی ہو مگر دو۲ نمازیں ، مزدلفہ میں مغرب وعشاء کو جمع کیا اور اس دن فجر کی نماز اپنے وقت سے پہلے پڑھی۔ بحوالہ بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی اس طرح ابن مسعود نے نماز کی اپنے وقت سے تقدیم وتاخیر کی نفی کردی ہے اور بتادیا ہے کہ ایسا صرف دو۲ نمازوں میں ہُوا تھا ، جن میں سے ایك نماز کا تو انہوں نے ذکر کردیا ، یعنی مزدلفہ کی مغرب ، کہ اس کو عشاء تك مؤخر کیا تھا ، مگر دوسری نماز کا ذکر نہیں کیا ، یعنی عرفہ کی عصر کا ، کہ اس کے ظہر کے وقت میں مقدم کرکے پڑھاتھا ، عدمِ ذکر کی وجہ ، اس کا مشہور ہونا ہے ، نیز یہ بات قیاس سے بھی معلوم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اس کی بجائے انہوں نے دوسرا واقعہ بیان کردیا کہ فجر کو ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مسنون اور اپنے معتاد وقت سے پہلے پڑھا ، تو جب جمع کی روایت کا حال یہ ہے جو ہم نے ذکر کیا ، توضروری ہے کہ یاتو اس کو رَد کردیا جائے یا کوئی تاویل کی جائے۔ (ت)
اور اس کے مطالعہ سے بحمدالله تعالٰی ایك اور توارد حسن معلوم ہوا فقیر غفرلہ نے حدیث ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے پہلے جواب میں غروب شفق کو قرب غروب پر حمل اور اس محتمل کو اُن نصوص صریحہ مفسرہ کی طرف رد کیا اور قصہ مرویہ ابن عمر کو واحد بتایا تھا بعینہٖ یہی مسلك ملك العلماء نے اختیار فرمایا ، فرماتے ہیں :
بل المراد بغروب الشفق ، قرب غروبہ ، لان القصۃ واحدۃ ، وماذکرنا من قبل مفسرلا یقبل التاویل ، فیاوّل بقرب غروب الشفق ، اویقال : ھذا من وھم بعض الرواۃ ، واماما ذکرنا اولا ، فھو مطابق للامر المتقرر فی الشرع من تعیین الاوقات [2]۔
غروبِ شفق سے مراد غروب کے قریب ہونا ہے کیونکہ قصّہ ایك ہی ہے اور ہم نے پہلے جو روایت بیان کی ہے وہ مفسّر ہے ، تاویل کا احتمال نہیں رکھتی ، اس لئے یا تو غروب شفق کی ، قربِ غروب سے تاویل کرنی پڑے گی ، یا یہ کہا جائے گا کہ یہ کسی راوی کا وہم ہے اور پہلے جو ہم نے روایت ذکر کی ہے ، وہ شرع میں جو کچھ مقرر ہوچکا ہے یعنی تعیین اوقات ، اس کے مطابق ہے۔ (ت)
بحمدالله تعالٰی تیسرا توارد اور واضح ہوا حدیث معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں کلامِ فقیر یاد کیجئے کہ اس روایت میں اسی طرح مقال واقع ہوئی مگر فقیر کہتا ہے اس کا کون سا حرف جمع حقیقی میں نص ہے الخ بعینہٖ یہی طریقہ مع شی زائد مولانا بحر قدس سرہ ، چلے بعد عبارت مذکور فرماتے ہیں :
اما جمع التقدیم فلم یرو الافی الروایات الشاذۃ لا اعتداد بھا عند سطوع شمس القاطع ثم لیس فی روایۃ ابی داود عن معاذ مایدل علی تقدیم العصر عن وقتھا؛ وانما فیہ ، اذازاغت الشمس قبل ان یرتحل جمع بین الظھر والعصر ، ویجوز انیکون الجمع بان یؤخر الظھر الٰی اٰخر وقتھا ویعجل العصر اول وقتھا۔ او ان المراد بالجمع ، الجمع فی نزول واحد؛ وانکانتا ادیتا فی وقتیھا فافھم۔ ھکذا ینبغی ان یفھم المقام [3]۔
رہی جمع تقدیم ، تو اس کا ذکر صرف شاذ روایات میں ہے اور قطعی دلیل کا سورج طلوع ہونے کے بعد ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ پھر ابوداود کی روایت میں ایسا لفظ ہے بھی نہیں جو عصر کی اپنے وقت سے تقدیم پر دلالت کرتا ہو۔ اس میں تو صرف اتنا ہے کہ اگر روانگی سے پہلے سُورج ڈھل جاتا تھا تو ظہر وعصر کو جمع کرلیتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ جمع اسی طرح کرتے ہوں کہ ظہر کو آخر وقت تك مؤخر کردیتے ہوں اور عصر اوّل وقت میں پڑھ لیتے ہوں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جمع سے مراد یہ ہے کہ دونوں کو پڑھنے کیلئے ایك ہی مرتبہ اُترتے تھے ، اگرچہ ادا اپنے اپنے وقت میں کرتے تھے۔ اس کو سمجھو۔ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہے۔ (ت)
اور واقعی بحمدالله تعالٰی یہ تینوں مطالب عالیہ وہ جواہر غالیہ ہیں جن کی قدر اہلِ انصاف ہی جانیں گے علامہ بحر قدس سرہ ، سا فاضل جامع اجل واغر دقیق النظر اگر ایك بیان مسلسل مجمل مختصر میں اُنہیں افادہ فرماجائے ان کی شان تدقیق سے کیا مستبعد پھر بھی ایك رنگ افتخار اُن کے کلام سے مترشح کہ فرماتے ہیں ھکذا ینبغی ان یفھم المقام مگر فقیر حقیر قاصر فاتر پر ان جلائل قدسیہ زاہرہ اور اُن کے ساتھ اور دقائق وحقائق باہرہ مذکورہ کثیرہ وافرہ کا افادہ محض عطیہ علیہ حضرت وہاب جواد بے سبقت استحقاق وتقدم استعداد ہے ذلك فضل الله علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرونo ربی لك الحمد کماینبغی لجلال وجھک
وکمال الائك ودفور نعمائك صل وسلم وبارك علی اکرم انبیائك محمد واٰلہ وسائراصفیائك اٰمین۔ مولانا قدس سرہ ، ان نفائس عزیزہ کو بیان کرکے فرماتے ہیں :
انظر ماادق نظر ائمتنا حیث لاتفوت عنھم دقیقۃ [4]۔
دیکھ تو ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی نظر کیسی دقیق ہے کہ کوئی دقیقہ ان سے فروگزاشت نہیں ہوتا۔ (ت)
فقیر کہتا ہے ہاں والله آپ کے ائمہ اور کیا جانا کیسے ائمہ مالکان ازمہ وکاشفانِ غُمہ ایسے ہی دقیق النظر وعالی مدارك وشاہان بزم وشیرانِ معارك ہیں کہ منازل دقیق اجتہاد میں اوروں کے مساعی جمیلہ اُن کے توسن برق رفتار کی گرد کونہ پہنچے اور کیوں نہ ہو کہ آخر وہ وہی ہیں کہ اگر ایمان وعلم ثریا پر معلق ہوتا لے آتے آج کل کے کو رانِ بے بصر اُن کے معارج علیہ سے بے خبر ، اگر آئینہ عالمتاب میں اپنا منہ دیکھ کر طعن وتشنیع سے پیش آئیں کیا کیجئے ؎
مہ فشاند نوروسگ عوعو کند
کر کسے برخلقت خودمے تند
(چاند روشنی پھیلاتا ہے اور کتّا بھونکتا ہے ہر کوئی اپنی فطرت کے مطابق چلتا ہے)
ان حضرات کی طویل وعریض بدزبانیوں کا نمونہ یہیں دیکھ لیجئے مسئلہ جمع میں مُلّاجی کے دعوے تھے کہ وہ دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور اُس کا خلاف کسی حدیث سے ثابت نہیں نہ جمع صوری پر اصلًا کوئی دلیل حنفیہ کے پاس ہے اب بحول وقوت رب قدیر سب اہلِ انصاف نے دیکھ لیا کہ کس ہستی پر یہ لن ترانی کس بِرتے پر تتّا پانی ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔
ثانیا اقول : وبالله التوفیق اگر نظر تتبّع کو رخصت جولاں دیجئے تو بعونہٖ تعالٰی واضح ہوکہ یہ جواب علما محض تنزّلی تھا ورنہ اسی حدیث میں حضرت عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجمع عرفات بھی ذکر فرماچکے ، یہی حدیث سُنن نسائی کتاب المناسك باب الجمع بین الظہر والعصر بعرفہ میں یوں ہے :
اخبرنا اسمٰعیل بن مسعود عن خالد عن شعبۃ عن سلیمٰن عن عمارۃ بن عمیر عن عبدالرحمٰن بن یزید عن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہ قال : کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یصلی الصلاۃ لوقتھا الا بجمع فی مزدلفۃ وعرفات [5]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع